تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 489

تھے۔ویسے وہ حکومت کی طرف سے ایک خاص مقدمہ کی پیروی کےلئے مقرر تھے۔اُن دنوں ہندوستان کی حکومت نے انگلستان سے مالیات کے ایک ماہر کو منگوایا تھا تاکہ بعض اہم باتوں میں اس کا مشورہ لیا جاسکے۔چوہدری صاحب نے اسے مجھ سے ملانے کے لئے دعوت دی۔اور اس میں اور چیزوں کے علاوہ گلاب جامن یا رس گلے بھی رکھ دیئے۔اس شخص کے لئے یہ بالکل ایک نئی چیز تھی وہ انہیں دیکھ کر گھبراگیا۔مگر چوہدری صاحب نے کہا۔اسے کھاکر دیکھو۔چنانچہ اس نے ایک گلاب جامن یا رس گلا اُٹھا کر کھایا۔چوہدری صاحب نے پھر ایک گلاب جامن یا رس گلا اسے دیا۔اس نے پھر گریز کیا تو چوہدری صاحب نے ا س سے کہا کہ تم نے پہلا گلاب جامن یا رس گلا تو عجوبہ کے طور پر کھایا تھا۔اب دوسرا گلاب جامن یا رس گلا اس کے مزے کی وجہ سے کھائو۔میں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ آپ نے یہ کیا بات کہی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ انگریزی میں یہ محاورہ ہے کہ پہلی چیز عجوبہ کے طور پر ہوتی ہے اور دوسری چیز اس کے مزے کی وجہ سے استعمال کی جاتی ہے۔یہ تو ایک دنیوی ضرب المثل ہے لیکن میں نے روحانیات میں بھی دیکھا ہے کہ پہلے چسکہ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر خود بخود عادت پڑجاتی ہے۔ٹنکچرز جو الکوحل سے تیا ر ہوتی ہیں بچے اور جوان ا ن کے پینے سے گھبراتے ہیں لیکن یورپ میں لوگ شراب تک مزے لے لے کر پیتے ہیں۔اور روکنے کے باوجود اسے نہیں چھوڑتے۔امریکہ میں جب شراب نوشی کے انسداد کے لئے قانون وضع کیا گیا تو ہزار ہا موتیں وہاں صرف اس وجہ سے واقع ہوئیں کہ لوگ شراب پینے کے شوق میں سپرٹ پی لیتے۔سالہاسال ایسا ہوتا رہا کہ چونکہ لوگوں کو پینے کےلئے شراب نہیں ملتی تھی اس لئے وہ سپرٹ پی لیتے تھے اور سپرٹ میں چونکہ زہریلی چیزوں کی آمیزش ہوتی ہے اس لئے کئی اندھے ہوجاتے اور کئی مرجاتے۔مگر پھر بھی وہ اپنی خواہش کو نہ روک سکتے۔پس ہر چیز کے دومزے ہوتے ہیں ایک توا س کا ذاتی مزاہوتا ہے اور دوسرا مزا عادت کے نتیجہ میں ہوتاہے۔ہمارے ملک میں لوگ پان میں زردہ کا استعمال کرتے ہیں۔لیکن جس نے پہلے زردہ استعمال نہ کیا ہو وہ اگر زردہ کھا لے تو اس کے سر میں چکر آنے لگتاہے مجھے یاد ہے ایک دفعہ مجھے نقرس کی تکلیف ہوئی۔ایک دوست جو ہندوستا ن کے تھے انہوں نے کہا۔آپ پان میں زردہ ڈال کر کھائیں۔درد ہٹ جائے گی۔میںنے کہا۔میں نے تو زردہ کبھی نہیں کھایا۔اس لئے اگر میں نے زردہ کھایا تو سرمیں چکر آجائے گا۔انہوں نے کہا نہیں آپ استعمال تو کریں۔چنانچہ انہوں نے پان میں زردہ ڈال کر مجھے دیا اورمیںنے کھا لیا۔اس سے درد میں واقعہ میں کچھ کمی ہوگئی چند گھنٹوں کے بعد انہوں نے پھر مجھے پان میں زردہ ڈال کردیا۔غرض دو دن ہم سفر میںرہے اور دونوں دن وہ برابر مجھے پان میں زردہ ڈال کردیتے رہے۔دودن کے بعد میں نے دیکھا کہ درد کی تکلیف کم ہونے لگی ہے تب میں نے اسے چھوڑ