تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 488
اَلْجَحِیْمُ۔اَلْجَحِیْمُ اَلنَّارُ الشَّدِیْدَۃُ التَّاَجُّجِ۔یعنی جحیم کے معنے سخت بھڑکنے والی آگ کے ہیں۔نیز اس کے معنے ہیں۔کُلُّ نَارٍ عَظِیْمَۃٍ فِیْ مَھْوَاۃٍ فَھِیَ جَحِیْمٌ یعنی ہر وہ بڑی آگ جو گڑھے میں ہو۔اَلْمَکَانُ الشَّدِیْدُ الْحَرِّ۔سخت گرمی والی جگہ۔اِسْمٌ مِنْ اَسْمَآئِ جَھَنَّمَ۔جہنم کے ناموں میںسے ایک نام جحیم بھی ہے۔(اقرب) کُبْکِبُوْا۔کُبْکِبُوْاکَبْکَبَ سے جمع مذکر کا مجہول کا صیغہ ہے اور کَبْکَبَہٗ کے معنے ہیں قَلَبَہٗ وَصَرَعَہٗ۔اس کو پچھاڑ دیا اور شکست دے دی۔اور جب کَبْکَبَ الشَّیْءَ کہیں تو معنے ہوںگے رَمَاہُ فِیْ الْھُوَّۃِ۔اس کو گڑھے میں پھینک دیا۔(اقرب) پس کُبْکِبُوْا کے معنے ہوںگے۔(۱)ان کوپچھاڑ دیا جائے گا۔(۲)ان کو گڑھے میں پھینک دیا جائے گا۔اَلْغَاوٗنَ۔اَلْغَاوٗنَ اَلْغَاوِیْ کی جمع ہے جو غَوَیٰ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔اور غَوَی الرَّجُلُ کے معنے ہیں۔ضَلَّ گمراہ ہوگیا خَابَ۔ناکا م ہوگیا۔اِنْھَمَکَ فِی الْجَھْلِ۔جہالت میں لگ گیا۔ھَلَکَ۔ہلاک ہوگیا۔پس اَلْغَاوِیْ کے معنے ہوںگے گمراہ ہونے والا۔ناکام ہونے والا۔جہالت کے کاموں میں مشغول ہونے والا۔ہلاک ہونے والا۔(اقرب) جُنُوْدٌ۔جُنُوْدٌ: جُنْدٌ کی جمع ہے اور اَلْجُنْدُ کے معنے ہیں اَلْعَسْکَرُ۔لشکر۔اَلْاَعْوَانُ۔مددگار (اقرب) نُسَوِّیْکُمْ۔نُسَوِّیْکُمْ: سَوَّیٰ سے فعل مضارع کا جمع متکلم کا صیغہ ہے اورسَوَّاہُ بِہٖ کے معنے ہیں عَدَّلَ۔کسی کو کسی کے برابر قرار دیا (اقرب) پس اِذْ نُسَوِّیْکُمْ کے معنے ہوں گے جب ہم تم کو برابر قراردیتے تھے۔حَمِیْمٍ۔اَلْـحَمِیْمٌ: القَرِیْبُ الَّذِیْ تَھْتَمُّ بِاَمْرِہٖ۔وہ قریبی جس کے کاموں کی سرانجام دہی کی فکر رہتی ہو۔اَلصَّدِیْقُ دوست (اقرب) کَرَّۃً۔کَرَّۃً کَرَّ سے مصدر ہے۔اور کَرَّ کے معنے ہیں رَجَعَ۔لوٹا (اقرب) پس کَرَّۃً کے معنے ہیں ایک دفعہ لوٹنا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اس دن جنت متقیوں کے قریب کردی جائے گی۔یعنی متقی جوں جوں نیک کام کرتا چلاجاتا ہے نیکی اس پر آسان ہوتی جاتی ہے اور جنت اس کے قریب ہوتی چلی جاتی ہے۔میں نے بالعموم دیکھا ہے کہ جب کسی کو نیکی کی لذّت حاصل ہوجائے تو اس کے بعد وہ بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھتا ہے اور ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری نیکی اس کے لئے آسان سے آسان تر ہوجاتی ہے۔پارٹیشن سے پہلے میں ایک دفعہ دہلی گیا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اس وقت تک ابھی وزیر نہیں بنے