تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 487
فَكُبْكِبُوْا فِيْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ۰۰۹۵وَ جُنُوْدُ اِبْلِيْسَ اور ابلیس کے لشکر سارے کے سارے اس (دوزخ) میں اوندھے منہ گرادیئے جائیں گے۔وہ آپس میں اَجْمَعُوْنَؕ۰۰۹۶قَالُوْا وَ هُمْ فِيْهَا يَخْتَصِمُوْنَۙ۰۰۹۷تَاللّٰهِ اِنْ جب کہ وہ اُس (یعنی جہنم) میں جھگڑ رہے ہوں گے کہیں گے۔خدا کی قسم ہم کھلی کھلی گمراہی میں پڑے كُنَّا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍۙ۰۰۹۸اِذْ نُسَوِّيْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۹۹ ہوئے تھے۔جب کہ ہم تم کورب العالمین خدا کے برابر درجہ دیتے تھے۔اور ہم کو تو مجرموں نے ہی راستہ سے وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ۰۰۱۰۰فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَۙ۰۰۱۰۱ بھٹکا یا تھا۔پس (آج) شفاعت کرنے والوں میںسے کوئی ہماری شفاعت نہیں کرتا۔اور نہ ہمارا کوئی وَ لَا صَدِيْقٍ حَمِيْمٍ۰۰۱۰۲فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ غمخوار دوست ہے۔پس اگر ہمیں لوٹنے کی طاقت ہوتی تو ہم (لوٹ کر) ضرور مومنوں میں (شامل)ہوجاتے۔الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۰۳اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ اس (واقعہ ) میں ایک بہت بڑا نشان ہے لیکن ان (کافروں )میں سےاکثر ایمان ہی نہیں لاتے۔مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۰۴وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۰۵ اور تیرا رب یقیناً غالب (اور )باربار رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اُزْلِفَتْ۔اُ زْلِفَتْ: اَ زْلَفَ سے مؤنث کا فعل مجہول کا صیغہ ہے اور اَزْلَفَ کے معنے ہیں قَرَّبَہٗ۔اس کو قریب کیا (اقرب) پس اُزْلِفَتِ لْجَنَّۃُ کے معنے ہوںگے۔جنت قریب کردی جائے گی۔بُرِّ زَتُ۔بُرِّزَتْ :بَرَّزَ سے مؤنث کا فعل مجہول کا صیغہ ہے اور بَرَّزَہٗ کے معنے ہیں اَظْہَرَہٗ وَبَیَّنَہٗ کسی چیز کو ظاہر اورواضح کردیا (اقرب) پس بُرِّزَتْ کے معنے ہوںگے ظاہر کر دی جائے گی