تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 478

باہر نکل جائے گا۔کیونکہ ہزاروں سال کے لمبے عرصے میں چند زمانوں میں ہی نبی آئے ہیں درمیان میں بڑے بڑے وقفے نظر آتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث نہیںہوا۔پس اگریہ معنے کئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف اس زمانہ کے لوگوں پر ہی حجت ہوئی ہے جس زمانہ میں کوئی نبی آیا ہے۔باقی سب دنیا کسی الزام کے نیچے نہیں آتی۔پس یہ جو شبہ پیدا ہوتا ہے سب سے پہلے میں اسی کے متعلق بتاتا ہوں کہ قرآن کریم کی اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف کسی نبی کی زندگی میں جو لوگ ایمان نہیں لاتے وہی اتمام حجت کے نیچے آتے ہیں بلکہ جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے ہر نبی کی حیات دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک اس کی حیات جسمانی ہوتی ہے اور ایک اس کی حیات فیضانی ہوتی ہے۔ایک وہ زمانہ ہوتا ہےجب کہ وہ اپنے جسم کے ساتھ دنیا میں زندہ ہوتا ہےاور ایک وہ زمانہ ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے فیضان کے ساتھ دنیا میں زندہ ہو تا ہےاور کسی نبی کے فیضان کے زمانہ کی زندگی لوگوں کے عذرات کے لحاظ سے ویسی ہی حیثیت رکھتی ہے جیسا کہ اس کی حیات جسمانی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ لوگ زندہ موجود ہوتے ہیں جنہوں نے نبی کی زبان سے خدا تعالیٰ کا کلام سنا ہوتا ہے اور وہ اس کی قوت قدسیہ کے حال ہوتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول رسول ہی ہے اور اس کے اتباع ہی ہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک زندہ خدا لوگوں کو نظر آیا ہے اسی طرح ابوبکر ؓاور عمر ؓاور عثمان ؓاور علیؓ کے ذریعہ بھی لوگوں کو ایک زندہ خدا نظر آتا تھا اور پھر ویسا ہی زندہ خدا حضرت حسن بصریؒ، حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ ،حضرت جنید بغدادی ،ؒ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی ،ؒ حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی ؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتی ؒ ،اور سید عبد القادر صاحب جیلانی ؒ وغیرہ کے ذریعہ بھی نظر آتا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کے زندگی بخش اثرات کو برابر قائم رکھا اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کی زندگی جاری رہی۔سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ کوئی چیز کتنی نظر آئی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کوئی چیز نظر آئی ہے یا نہیں آئی۔اگر کوئی چیز نظر آجائے تو یہ سوا ل باقی نہیں رہتا کہ وہ چیز چھوٹی ہے یا بڑی۔دنیا میں مختلف قسم کی گائیں ہوتی ہیں مختلف قسم کے گھوڑے ہوتے ہیں کوئی ادنیٰ قسم کے ہوتے ہیں اور کوئی اعلیٰ قسم کے ہوتے ہیں۔اگر کوئی شخص کسی اعلیٰ درجہ کی گائے یا کسی اعلیٰ درجہ کے گھوڑے کو دیکھ کر یہ کہے کہ مجھے جب تک ایسی ہی گائے یا ایسا ہی گھوڑا دکھائی نہ دے میں مان نہیں سکتا کہ دنیا میں کوئی گائے یا گھوڑا بھی موجود ہے تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔میں ایک دفعہ کپور تھلہ گیا تو وہاں میں نے مہاراجہ کی ایک گائے دیکھی جو تین ہزار روپیہ کی تھی اور جو ولایت سے منگوائی گئی تھی۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے گائے نہیں دیکھی اور اس کا مطلب وہ یہ لے کہ