تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 479

مہاراجہ کپور تھلہ کی جو تین ہزار روپیہ کی گائے ہے وہ میں نے نہیں دیکھی تو کوئی معقول انسان اس کی اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا۔اسی طرح ہم گھوڑوں کو دیکھتے ہیں تو وہ ٹٹو بھی ہوتے ہیں جو معمولی سی قیمت پر آجاتے ہیں اور وہ گھوڑے بھی ہوتے ہیں جو پچیس پچیس لاکھ روپیہ کو خریدے جاتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص پچیس لاکھ روپیہ والے گھوڑے کا ذکر سن کر کہے کہ میں نے کبھی گھوڑا نہیں دیکھا اور اس کا مطلب یہ ہو کہ میں نے پچیس لاکھ روپیہ قیمت والا گھوڑا نہیں دیکھا تو کوئی معقول انسان اس کی اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا۔اگر وہ ایک بیمار اور ضعیف اور کمزور گھوڑا بھی دیکھ لیتا ہے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے گھوڑا نہیں دیکھا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی زندگی کا ثبوت کسی انسان کے ذریعہ سے مل جائے تو چاہے وہ اتنا روشن اور بین نہ ہو اورچاہے وہ اس فیضان کا ایک چھوٹا سا ظہور ہو بہرحا ل جب خدا کا عکس اس کے آئینہ قلب میں سے نظر آجائے اور دنیا اس کا انکار نہ کرسکے بلکہ اسے کہنا پڑے کہ میں نے خدا کو دیکھ لیا تو کسی کا یہ کہنا کہ جب تک مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی طرح خدا نظر نہیںآئے گا۔میں تسلیم نہیں کروں گا درست نہیں ہوگا جب ایک چیز موجود ہو تو اس کا انکار واقعات کو جھٹلانا ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ کوئی چیز چھوٹی ہو اور کوئی بڑی۔پس نبی کی جو حیات فیضانی ہوتی ہے اس میں جتنے لوگ ہوں سب پر حجت تمام ہو جاتی ہے کیونکہ نبی کے زیر سایہ اور زیر تعلیم لوگوں کے ذریعہ وہ ایسے نشانات دیکھتے ہیں جن سے زندہ خدا کا ثبوت مل جاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام میں یہ سلسلہ ءفیوض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے طور پر جاری ہے کہ اس میں کبھی انقطاع نہیں ہوا۔یہ سلسلہ ابتدائے اسلام سے جاری ہوااور حضرت سید احمد صاحب شہید بریلوی ؒ کے زمانہ تک برابر جاری رہا۔اور ان کے اور ان کے اتباع کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کا ثبوت لوگوں کو ملتا رہا۔ان پر الہامات کا نزول ہوتا تھا۔وہ ان الہامات کو بیان کرتے تھے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یقین پیدا ہوتا تھا۔اور یہ تو صرف ہندوستان کا ذکر ہے۔دنیا کے اور حصوں میں بھی مختلف مجددین مبعوث ہوئے اور وہ لوگوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا موجب بنے۔مجددین کے متعلق لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ایک ہی مجدد ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوتا ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہر ملک اور ہر علاقہ میں اللہ تعالیٰ مجدّد پیدا کیاکرتا ہے مگر لوگ قومی یا ملکی لحاظ سے اپنی قوم اور اپنے ملک کے مجدّد کو ہی ساری دنیا کا مجدّد سمجھ لیتے ہیں۔حالانکہ جب اسلام ساری دنیا کے لئے ہے تو ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں اور مختلف ملکو ں میں مختلف مجدّدین کھڑے ہوں۔حضرت سیّد احمد