تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 463

بھی بدتر ہو جاتا ہے پس ضروری ہے کہ انسان اپنی کسی حالت پر بھی قانع اور مطمئن نہ ہو بلکہ وہ ہمیشہ ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے مقام کی طرف ترقی کرنے کی کوشش کرتا رہے۔غرض یہ دعا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے اس لئے نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی نجات میں کوئی شبہ تھا۔بلکہ اس لئے بیان کی گئی ہے کہ مومنوں کو روحانی مدارج کے طے کرتے وقت یہ امر ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ کسی مقام کو انتہائی مقام نہ سمجھ لیں اور کسی مقام پر پہنچ کر وہ یہ خیال نہ کر لیں کہ اب ہمیں گرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دعا نہ مانگتے تو لوگ یہ خیال کر لیتے کہ ہمیں بھی کسی ایسی دعا کی ضرورت نہیں اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اس مقام پر پہنچے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کا ہر وقت عبادت الٰہی میںبسر ہوتا ہے وہ رات اور دن سوتے اور جاگتے اٹھتے اور بیٹھتے اللہ تعالیٰ کے عشق اور اس کی محبت میں مخمور رہتے ہیں اس کا ذکر ان کی زبانوں پر جاری رہتا ہے اور اس کے نام کو بلند کرنے کے لئے ان کی زندگی کا ہر لمحہ اور ان کے جسم کا ہر ذرہ مصروف ہوتا ہے لیکن باوجود اس حالت کے ان کو بھی حکم ہو تا ہے کہ جاؤ اور نمازیں پڑھو۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر وہ نمازیں نہ پڑھیں تو وہ لوگ جو انبیاء کے نمونہ کو دیکھ کر عمل کر نے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی نمازوں کو چھوڑ دیں اسی لئے کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جسے عبادات سے فارغ کیا گیا ہو۔ہر نبی کو عباد ت کرنی پڑتی ہے ویسی ہی عبادت جیسی اور لوگ کر تے ہیں حالانکہ ان کا ہر لمحہ عبادت میں گزر رہا ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہی دیکھ لو۔آپ ؐ صرف پانچ نمازیں ہی نہیں پڑھا کرتے تھے بلکہ آپ کی زندگی کی ہر گھڑی عبادت الٰہی میں گذرتی تھی۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آپ ؐکے متعلق فرماتا ہے کہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ(الانعام:۱۶۳)یعنی اے محمد ؐرسول اللہ ! لوگوں سے کہہ دے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ میں صرف پانچ وقت کی نمازیں پڑھتا ہوں بلکہ میری عبادت بھی اور میری قربانیاں بھی اور میری زندگی کی حرکات بھی اور میری موت بھی سب خدا کے لئے ہے میرا کوئی وقت ایسا نہیں جو خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کی محبت اور اس کے ذکر میں نہ گزرتا ہو بلکہ میری موت بھی خدا کی عبادت ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وفات پانے لگے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں اس وقت بھی آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے اَللّٰھُمَّ الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی (بخاری کتاب المغازی باب اخر ما تکلم بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم)میرا وہ رفیق جو عر ش بیٹھا ہے میں اب اس کے پاس جانا چاہتا ہوں۔پس آپؐ کا پانچ نمازیں پڑھنا درحقیقت ہماری ہدایت اور راہنمائی کے لئے ہی تھا۔ورنہ اگر آپؐ نمازیں نہ پڑھتے تو جیسے جھوٹے صوفیاء کی عادت ہوتی ہے کئی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بھی