تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 462

بھی مدارج کا بڑا بھاری فرق ہے اس لئے جب ایک نبی یہ دعا کرے گا کہ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ وہ اس صالحیت کے مقام کے لئے دعا کر رہا ہے جو شہاد ت سے بھی نیچے ہے۔بلکہ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ ان لوگوں کی معیت کے لئے دعا کر رہا ہے جو اس سے بالا مقام رکھنے والے ہیں۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے غیر محدود مراتب ہیں اور جب کسی شخص کو ایک مقام حاصل ہوجائے گا تو اس سے اگلے مقام کے حصول کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہو جائے گی۔اور جب وہ بھی اسے حاصل ہو جائے گا تو پھر اس سے اگلے مقام کی تڑپ اس کے دل میں پیدا ہو جائے گی اس لئے اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَکی دعا بھی ہمیشہ جاری رہے گی۔اور کبھی کوئی ایسا وقت نہیں آئے گا جب وہ اس دعا سے مستغنی ہوسکے۔درحقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا مانگ کر دنیا کو ایک بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔آپ نے بتایا ہے کہ کسی شخص کو خواہ کتنا بلند مقام حاصل ہو چکا ہو یہ کبھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس نے ترقی کے تمام مدارج کو طے کر لیا ہے کیونکہ جب بھی یہ خیال اس کے دل میں پیدا ہو گا وہ تنزل کی طرف گرنا شروع ہو جائے گا۔قوموں کی تباہی اوران کے ادبار کی بڑی وجہ یہی ہوا کرتی ہے کہ بعض دفعہ افراد یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہوں نے ترقی کے تمام مدارج طے کر لئے ہیں جب یہ وسوسہ ان کے دلوں میں جاگزیں ہو جاتا ہے تو وہ تنزل کا شکار ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس دنیا کو ایسا متحرک بنایا ہے کہ کوئی ذرہ ایسا نہیں جو حرکت نہ کر رہا ہو۔کسی کی حرکت دائرہ کی صورت میں ہوتی ہے اور کسی کی حرکت آگے کی طرف ہو تی ہے۔بہرحال کوئی ذرہ ایسا نہیں جو متحرک نہ ہو۔خدا تعالیٰ نے انسانی زندگی کا مرکز قلب بنایا ہے۔اور وہ بھی ہر وقت حرکت کرتا رہتا ہے۔اگر اس کی حرکت سکون سے بدل جائے تو اسی وقت انسانی زندگی ختم ہو جائے یہی حالت ایمان کی ہے۔اور اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایمان کی ترقی یا اس کے تنزل کا ذکر کرتے ہوئے قلب انسانی کی مثال دی ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ انسانی جسم میں گوشت کا ایک مضغہ ہے اگر وہ درست رہے تو سارا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے (بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبراء لدینہ)جسمانیات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی کے قلب میں خرابی پیدا ہو جائے تو وہ تمام خرابیوں سے زیادہ پریشان کن ہوتی ہے۔نہ اسے کھانا اچھا لگتا ہے نہ پینا اچھا لگتا ہے۔ہر وقت گھبراہٹ اور اداسی اور غم اس پر چھایا رہتا ہے۔اورگو وہ زندہ ہوتا ہے مگر اس کی حالت مردوں سے بدتر ہوتی ہے۔اسی طرح جب روحانی لحاظ سے کسی کے قلب میں فتورواقع ہو جائے تو اس کی وہ قوت ممیزہ جو نیکی اور بدی میں فرق کرنے والی ہوتی ہے ماری جاتی ہے۔اور اس کی حالت گرتے گرتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ حیوانوں سے