تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 461
کے صدیقوں یا بنیوں کی معیت کا خواہشمند ہے۔اور جب ایک نبی یہ دعا مانگے گا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اپنے مقام سے بالا مقام رکھنے والے انبیاء کی معیت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہے گویا ہر جگہ اس کے معنے بدلتے چلے جائیں گے۔جب صالح کا لفظ ایک عام فرد کے لئے استعمال ہوگا تو اس کے اور معنے ہوں گے۔اور جب صالح کا لفظ شہید اور صدیق کے لئے استعمال ہو گا تو اس کے اور معنے ہوں گے۔اور جب ایک نبی کے لئے استعمال ہوگا تو اس کے اور معنے ہوں گے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے قرآن کریم میں ایک طرف تو اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو فرماتا ہے کہ تم مت کہو ہم ایمان لے آئے ہیں۔تم صرف اتنا کہو کہ اَسْلَمْنَا (الحجرات:۱۵) ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ(البقرۃ:۱۳۲)جب اس کے رب نے اسے کہا کہ ہماری فرمانبرداری اختیار کر تو اس نے جواب میں کہا کہ میں تو پہلے ہی رب العالمین کی فرمانبرداری اختیار کر چکا ہوں۔گویا ایک جگہ تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ایمان کا ابتدائی قدم قرار دیا ہے اور دوسری جگہ اسلام کو ایمان اور معرفت کا انتہائی قدم قرار دیا ہے اسی طرح ایک لحاظ سے تو سارے انسان ہی خدا تعالیٰ کے عبدہیں مگر دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی عبد اللہ کا لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے ( سورۃ جن آیت ۲۰ )اور صوفیاء کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ناموں میں سے سب سے بڑا نام آپؐ کا عبد اللہ ہی ہے۔اب یوں تو سب انسانوں کو خواہ وہ مومن ہوں یا کافر عبد اللہ کہا جائے گا۔کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے لیکن جب یہ لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استعمال ہوگا تو اس کے معنے عام معنوں سے مختلف ہوں گے اور اس سے مراد یہ ہوگی کہ صرف آپؐ ہی ایک ایسے وجود ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبودیت کو اپنے انتہائی کمال تک پہنچا دیا ہے۔اسی طرح ایک صالحیت کا مقام تو وہ ہے جو صدیقیت اور شہادت سے بھی نیچے ہے۔اور ایک صالحیت کا مقام وہ ہے جس کے لئے انبیاء بھی دعائیں کرتے ہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے غیر متناہی مدارج ہیں اور انسان کسی مقام پر بھی کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے تمام مدارج کو طے کر لیا ہے۔پس وہ دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اور زیادہ ترقی دے اور انہیں ان لوگوں کی معیت عطا کرے جنہیں ان سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ا س کا قرب حاصل ہے۔آخر معراج کی رات جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انبیاء سے ملاقات کی تو وہ تمام انبیاء ایک ہی آسمان پر تو نہیں تھے بلکہ ان میں کوئی پہلے آسمان پر تھا کوئی دوسرے آسمان پر تھا۔کوئی تیسرے آسمان پر تھا کوئی چوتھے آسمان پر تھا۔کوئی پانچویں آسمان پر تھا کوئی چھٹے آسمان پر تھا اور کوئی ساتویں آسمان پر تھا۔پس چونکہ انبیاء میں