تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 460
ہو۔بلکہ ناروے کی ساری آبادی ہی لمبے قد والی ہے پس لمبائی کا معیار ناروے میں جاکر بالکل بدل جائے گا۔مثلاً ایک شخص جس کا قد پانچ فٹ چھ انچ ہو و ہ ہمارے ہاں میانہ قد والا کہلائے گا لیکن نیپا ل کے علاقہ میں وہ لمبا کہلائے گا اور ناروے میں جاکر وہ ٹھگنا کہلائے گا۔اسی طرح رنگ کو لے لو۔ہمارے ہاں جس آدمی کا رنگ ذرا سا بھی اجلا ہو اس کو گورا کہنے لگ جاتے ہیں مگر انگلستان والے اس کو کالا کہیں گے۔اور پھر وہی شخص جب حبشیوں میں جائے گا تو اس کو سفید کہا جائے گا۔بلکہ حبشیوں میں تو جس شخص کو ہم سانولے رنگ والا کہتے ہیں اسے بھی سفید رنگ والا کہا جاتا ہے۔ہمارے سابق مبلغ افریقہ مولوی عبد الرحیم صاحب نیر کا رنگ سفید نہیں تھا بلکہ گندم گو ںتھا۔مگر جب وہ افریقہ گئےتو وہاں ان کو حبشی لوگ سفید رنگ والا کہتے تھے اور وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں بزرگوں کی یہ پیشگوئیاں موجود ہیں کہ جب ہمارے ملک میں سفید رنگ والا مبلغ آئے گا تو بہت زیادہ ترقی ہو گی۔پس جس طرح رنگ اور قد کے معنے مختلف علاقوں میں بدلتے رہتے ہیں اسی طرح صالح کے معنے بھی مختلف حالات میں بدل جاتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا(نساء:۷۰)میں صالحیت کو سب سے ادنیٰ مقام قرار دیا ہے اور دوسری طرف حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کے متعلق فرماتا ہے کہ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ (تحریم:۱۱)وہ دونوں ہمارے صالح بندوں کے نکاح میں تھیں۔حالانکہ نوح ؑاور لوط ؑ دونوں نبی تھے۔اسی طرح حضرت اسحاق ؑاور حضرت یعقوبؑ کے متعلق فرماتا ہے وَّ کُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِیْنَ (انبیاء:۷۳) ہم نے ان سب کو صالح بنایا۔حالانکہ حضرت اسحاق ؑاور حضرت یعقوبؑ بھی نبی تھے۔پھر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (آل عمران:۴۰) وہ صالحین میں سے نبوت کا مقام حاصل کرے گا۔اسی طرح حضرت مسیح کے متعلق آتا ہے کہ یُکَلِّمُ النَّاسِ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا وَّ مِنَ الصَّلِحِیْنَ (آل عمران :۴۷) وہ چھوٹی عمر میں بھی لوگوں سے کلا م کرے گا اور بڑی عمر میں بھی اور صالحین میں سے ہوگا۔حالانکہ حضرت مسیح ناصری ؑخدا تعالیٰ کے نبی تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح کے لفظ کا استعمال مختلف معانی رکھتا ہے جب ایک عام فرد یہ دعا کرے گا کہ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اے خدا مجھے صالحیت کا مقام رکھنے والوں میں شامل فرما۔اور جب ایک صالح شخص یہ دعا مانگے گا کہ تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ شہداء کی معیت کا خواہش مند ہے اور جب ایک شہید یہ دعا مانگے گا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ صدیقوں میں شامل ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔اور جب ایک صدیق یہ دعا مانگے گا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اپنے سے بالا درجہ