تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 458

ہے کہ اس جگہ حکم سے مراد لوگوں کے درمیان سچائی کے ساتھ فیصلہ کر نے کی طاقت ہے۔یہ تمام توجیہات صرف اس وجہ سے کی گئی ہیں کہ مفسرین نے سیاق کلام کو مدنظر نہیں رکھا اور جو کچھ کسی کے ذہن میں آیا و ہ اس نے معنے کر دیئے۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں حکم کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔بعض جگہ حکم کا لفظ حکومت اور غلبہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ (الجاثیۃ:۱۷)ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت بخشی تھی۔اسی طرح فرماتا ہے۔مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ (آل عمران:۸۰)۔کسی انسان کے یہ شایان شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت دے اور وہ یہ کہنے لگ جائے کہ تم خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔بعض جگہ حکم کا لفظ فیصلہ کرنے کی فراست کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ۔وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا(یوسف:۲۳)۔جب وہ اپنی قوت اور مضبوطی کی عمر کو پہنچا تو ہم نے اسے فیصلہ کرنے کی فراست بخشی اور اپنے پاس سے علم عطا فرمایا۔بعض جگہ حکم کا لفظ صرف فیصلہ کے معنوں میں بھی استعمال ہواہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ(مائدۃ:۵۱)کیا یہ لوگ کلام الٰہی کے نازل ہونے سے پہلے کے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں ؟یا فرماتا ہے اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ(انعام:۶۳)اچھی طرح سن لو کہ فیصلہ اسی کے اختیار میں ہے اور وہ حساب لینے والوں میں سے سب سے جلدی حساب لینے والا ہے۔بعض جگہ حکم کا لفظ احکام الٰہیہ اور تعلیم مذہبی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ كَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ (مائدۃ:۴۴)وہ لوگ تجھے کس طرح حَکم بنا سکتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جو خود ان کے نزدیک احکام الٰہی اور مذہبی تعلیم پر مشتمل ہے۔بعض جگہ حُکم کا لفظ عہدہ نبوت کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ فَوَهَبَ لِيْ رَبِّيْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِيْ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ(شعراء:۲۲)اللہ تعالیٰ نے مجھے حُکم یعنی عہدہ نبوت عطا فرمایا۔اور مجھے رسولوں میں سے ایک رسول بنا دیا۔غرض حُکم کا لفظ قرآن کریم میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔اس جگہ سیاق کلام بتا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل اور دماغ پر یہ بات حاوی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے وہ