تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 459
بخیر و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچے اور کوئی ایسی خرابی نہ پیدا ہو جو اس روحانی عمارت کو متزلزل کرنےو الی ہو جس کی بنیادوں کو استوار کرنے لئے مجھے کھڑا کیا گیا ہے۔اور چونکہ یہ کام الٰہی مدد کے بغیر سر انجام نہیں دیا جا سکتا تھا اس لئے آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کی کہ الٰہی تو خود مجھے غلبہ عطا فرما۔تو خود مجھے دینی معاملات میں صحیح فیصلہ کرنے کی فراست عطا فرما اور خود مجھے ان احکام کے نفاذ کی طاقت بخش جن کو قبول کرنے کے لئے فطرت صحیحہ خود بخود دوڑتی چلی آئے۔گویا تیرے احکام کو لوگ قبول تو کریں مگر ڈنڈے کے زور سے نہیں بلکہ اس لئے کہ خود ان کی عقل اور ان کی فطرت ان احکام کی عظمت اور برتری کو تسلیم کرتی ہو۔وَ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَاور اے میرے رب! مجھے نیک اور پاک لوگوں میں شامل فرما۔اس دعا میں یہ بات غور کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی کے منہ سے جس کی نجات اور جس کا قرب یقینی ہے یہ دعا جاری ہوئی ہے اگر تو کسی ایسے شخص کی زبان پر یہ دعا جاری ہو تی جس کی نجات اور جس کا قرب غیر یقینی ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ اس نے یہ دعا اپنی نجات اور اپنے قرب کے لئے مانگی ہے کیونکہ اس کی نجات یا قرب یقینی نہیں تھا مگر انبیاء کے متعلق یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی نجات غیر یقینی ہے۔اگر انبیاء کی نجات یقینی نہ ہواور اگر انبیاء کا قرب یقینی نہ ہو تو پھر دنیا میں کسی کی نجات اور کسی کا قرب بھی یقینی نہیں ہو سکتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے مامور اور اس کے مرسل تو وہ لوگ ہیں جو اپنے دعویٰ سے پہلے ہی نجات یافتہ ہوتے ہیں۔اگر وہ نجات یافتہ نہ ہوں تو دوسروں کو نجات دلانے کے لئے وہ کس طرح کھڑے ہو سکتے ہیں۔ان کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی نجات کے لئے کھڑا ہو نا بتاتا ہے کہ وہ پہلے ہی نجات یافتہ ہوتے ہیں۔اور جب انبیاء کی یہ حالت ہوتی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی خدا تعالیٰ کے ایک نبی تھے تو سوا ل پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو دنیا کا راہنما بنا کر بھیجا گیا جس کے متعلق لوگوں کو یہ کہا گیا کہ اگر تم نجات حاصل کر نا چاہتے ہو تو اس کی اقتداء کرو۔اس نے یہ دعا کیوں کی کہ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ مجھےصالحین کے ساتھ شامل کیجیو۔کیا اس دعا کے یہ معنے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ صالحین میں سے نہیں تھے یا اس کا کوئی اور مفہوم ہے سو یاد رکھنا چاہیے کہ بعض دفعہ لفظ تو ایک ہی ہوتا ہے مگرمواقع اور حالات کے اختلاف کی وجہ سے دوسری جگہ اس کا مفہوم بالکل بدل جاتا ہے اس کی موٹی مثال یوں سمجھ لو کہ عام طور پر جس قدو قامت کو میانہ قرار دیا جاتا ہے بعض ممالک میں اس کو چھوٹا یا لمبا سمجھا جاتا ہے۔مثلاً ناروے کے لوگ انگلستان اور دوسرے کئی ممالک کے باشندوں سے بہت لمبے ہوتے ہیں۔ایک دفعہ ناروے کی دو پادری عورتیں سیر و سیاحت کی غرض سے ہندوستان میں آئیں تو وہ دونوں اتنی لمبی تھیں کہ عام آدمیوں سے وہ ڈیڑھ دیڑھ بالشت اونچی تھیں۔اب یہ تو نہیں تھا کہ ناروے والوں نے سارے ملک میں سے چھانٹ کر انہی دو عورتوں کو بھیجا تھا تاکہ ان کی قد کی لمبائی کا دوسروں پر اثر