تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 454
غلبہ اور تفوق کے معنوں میں بھی استعما ل ہوتاہے۔حکومت اور بادشاہت کے معنوں میں بھی استعما ل ہوتاہے۔تدبیرکے معنوں میں بھی استعما ل ہوتاہے۔عادت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔طریق عبادت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے۔پرہیزگاری کے معنوں میں بھی استعما ل ہوتاہے۔حال کے معنوں میں بھی استعما ل ہوتاہے۔بلند شان کے معنوں میں بھی استعما ل ہوتاہے۔سیرۃ کے معنوں میں بھی استعما ل ہوتاہے۔(اقرب و لسان)پس یَوْمُ الدِّیْنِ کے معنی صرف قیامت کے نہیں کہ اس دعاکو آخری جزاء سزا کے دن کے لئے مخصوص سمجھاجائے بلکہ جیسا کہ اوپر بتایا جاچکاہے دین کے ایک معنے جزاء اور مطابق عمل نتیجہ کے بھی ہوتے ہیں۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے رب پر امید ہے کہ جب میرے اعمال کانتیجہ نکلے گاتو وہ میری کمزوریوں پرپردہ ڈالتے ہوئے اپنی رحمت میرے شامل حال رکھےگا۔اورمجھے اپنے مقصدمیں کامیابی عطافرمائے گا۔وہ لوگ جو روحانیت سے بے بہرہ ہوتے ہیں یہ خیال کرلیتے ہیں کہ انسان اسی صور ت میں مغفرت کا طلبگار ہوتاہے جب کہ وہ گناہ آلود زندگی بسر کررہا ہو۔مگر یہ خیال ان کی عربی زبان سے کلی ناواقفیت اور روحانی کوچہ سے قطعی طور پر نا آشنا ہونے کا ثبوت ہے حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اس بات کا محتاج ہے کہ خدا اسے اپنے نور سے حصہ عطا فرمائے۔اسے اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے جس طرح انسانی آنکھ سورج کی روشنی کے بغیر بیکار ہے اور انسانی کان ہوا کے توسط کے بغیر دوسرے کی آواز سننے کی طاقت نہیں رکھتے۔اسی طرح ہر انسان خواہ وہ خدا تعالیٰ کا نبی اور رسول ہی کیوں نہ ہو خدائی طاقت اور اس کی مدد کا محتاج ہوتا ہے۔اسی لئے اسلام نے سکھایا ہے کہ ہر انسان پانچ وقت نماز کی ہر رکعت میں خدا تعالیٰ سے یہ کہے کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ یعنی اے خدا !ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں مگر یہ کام ایسا ہے جس میںصرف ہماری کوشش اور ارادہ ہمیں کامیاب نہیں کرسکتا بلکہ اس میں کامیابی صر ف اسی صور ت میں ممکن ہے جب ہماری کوشش کے ساتھ تیری مد د بھی شامل ہوجائے۔جب یہ دونوں چیزیں مل جائیں گی۔تب کوئی نتیجہ پیدا ہوگا ورنہ محض ہماری کوشش کوئی نتیجہ پیدا نہیںکرسکتی۔انہی معنوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں اپنی طاقت کے مطابق تو خدا تعالیٰ کی توحید پھیلانے کے لئے رات اور دن جدوجہد کررہاہوںمگر میری یہ جدوجہد اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نصرت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی اس لئے میں اسی سے مدد کا طلب گارہوں۔اورمیں امید رکھتا ہوں کہ جب ان کوششوں کے نتائج کا ظہور ہوگا تو اس وقت اللہ تعالیٰ میری حقیر کوششو ں میں برکت پیدا فرمائے گا اور اگر کوئی خامی بشریت کی وجہ سے میرے کاموں میںرہ بھی گئی تو اس کمی کو اللہ تعالیٰ کا فضل پورا فرما دے گا اور مجھے اپنے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے گا۔