تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 452

مگر درحقیقت با ت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے اندر دو طاقتیں ہیں۔ایک طاقت مارتی ہے اور دوسری پیداکرتی ہے۔اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کومارنے کی طاقت تو دے دی ہے مگر پیداکرنے کی طاقت نہیں دی۔یہی وجہ ہے کہ دنیاگھبرااٹھی ہے اورجن ممالک کے پاس ایٹم بم نہیںہیںوہ ہروقت سہمے ہوئے اور خوفزدہ رہتے ہیںاور دنیاکے کونے کونے سے آوازیںآتی رہتی ہیںکہ ایٹم بم کولڑائی میںاستعمال نہ کیاجائے مگر میںسمجھتاہوں کہ ایٹم بم دنیاکو توجہ دلاتاہے کہ انسانوںکے ہاتھ میںآئی ہوئی طاقت کس قدر تباہ کن اور ہلاکت خیز ثابت ہوتی ہے اور انسان اس طاقت کو کس طرح بے موقع او ر بے محل استعمال کرکے ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کوتباہ و برباد کردیتاہے اور پھر اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ وہ یہ بھی کوشش کرتاہے کہ کسی طرح اس کواور بھی زیادہ مہلک بنائوں تاکہ وہ پہلے سے بھی بڑھ کر تباہی مچاسکے اور زیادہ سے زیادہ انسانوں کو تھوڑ ے سے تھوڑے وقت میںموت کے گھاٹ اتاراجاسکے۔حالانکہ یہی چیز اگر جائزطریق سے برمحل اور باموقعہ استعمال کی جائے تو بنی نوع انسا ن کے لئے حددرجہ مفید ہوسکتی ہے۔بہرحال اس گھبراہٹ کاعلاج صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اس خدا کی طرف رجوع کیاجائے جومارنابھی جانتاہے اورجِلانابھی جانتاہے۔اس کے پاس یہ دونوں طاقتیں موجود ہیں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہی فرمایا ہے کہ ہمار ا خدامحیی بھی ہے اور ممیت بھی ہے۔پس اسی کے ساتھ تعلق رکھناچاہیے جولاکھوں کومارتاہے مگر کسی کے دل میںگھبراہٹ پیدا نہیںہوتی۔کسی گھر میںایک آدمی مرجاتاہے تو اس کے لواحقین دوچار دن تک اس پر رو دھو کرخاموش ہوجاتے ہیں۔مگر تھوڑے دن نہیں گذرتے کہ اسی گھر میںکوئی بچہ پیدا ہوتاہے تو مبارک مبارک کے الفاظ کہے جارہے ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ خداکے اختیا ر میں ہے۔اس لئے ہمیں بھی خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔اور اسی پر بھروسہ رکھناچاہیے۔انسان کی طاقتیں صرف سطحی ہوتی ہیں۔جب تک خدا تعالیٰ کامنشاء اس دنیاکوقائم رکھنے کاہے۔اس وقت تک ایٹم بم کچھ نہیںکرسکتا۔بلکہ خداان سب مارنے والوں کوبھی مارسکتاہے اور ایسے سامان بھی پیداکرسکتاہے جن سے یہ ایٹم بم سب بے کار ہوکررہ جائیں۔پس انسان کو ان تمام باتوں سے بے نیاز ہوکرروحانیت کی طرف متوجہ ہوناچاہیے اورصرف خدا تعالیٰ کی پرستش کرنی چاہیے۔جوممیت تو ہے مگر ساتھ ہی محیی بھی ہے یعنی گووہ مارتابھی ہے مگر پھر وہ زندہ بھی کرے گا۔اوراس طرح موت کے بعد بھی اس کی طر ف سے خیر ہی خیر آئے گی۔موت کا ایک عارضی زمانہ ہوگااور آخر میں انسان کے لئے صرف حیات ہی حیات رہ جائے گی۔پھرفرماتے ہیں وَ الَّذِيْۤ اَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْٓـَٔتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ میرا رب وہ ہے جس کے متعلق مجھے امید ہے کہ وہ نتائج کے ظہور کے وقت میری کمزوریوں پرپردہ ڈالتے ہوئے اپنافضل میرے شاملِ حال رکھےگا اور مجھے