تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 448

آسمان پر یہ بات نہیں۔وہاں کسی کی موت پر رنج کا اظہارکیا جاتا اور کسی کی موت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔پھر یہ جذبہ بھی اموات کے لحاظ سے نسبتی طورپر تقسیم ہوجاتا ہے اور فرشتوںکا رنج اور ان کی خوشی بعض دفعہ مرکب ہوجاتی ہے۔یعنی فرشتے صر ف رنج یا صرف خوشی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کی خوشی اور ان کارنج ملا جلا ہوتاہے۔مثلاً جب کوئی بدقسمت اور گنہگار انسان مرتا ہے یا ایسا ظالم انسان مرتا ہے جس نے دنیا کے امن کو برباد کیا ہواہوتاہے تو خدا تعالیٰ کے ملائکہ خوش بھی ہوتے ہیں کہ بندوں کو اس ظالم انسان سے نجات ملی۔اور وہ رنج بھی کرتے ہیں کہ اپنے مولا کو راضی کرنے سے پہلے وہ شخص مرگیا۔اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کے بزرگ اور نیک لوگ فوت ہوتے ہیں اور دنیا میںان کی وفات کی وجہ سے کہرام مچا ہو ا ہوتاہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے ان کی صحبت کے خیال سے خوشی منارہے ہوتے ہیں۔موت کیا ہے؟موت اس دنیا سے اگلے جہان میں جانے کا ایک دروازہ ہے۔جس طرح کوئی مصلح یا محسن انسان کسی شہر میں داخل ہوتاہے تووہاں کے رہنے والے خوشی مناتے ہیں۔لیکن جب وہاں سے نکلتا ہے تو وہ رنج کا اظہار کرتے ہیں مگر آگے جب کسی دوسرے شہر میں داخل ہوتا ہے تو وہاں کے رہنے والے خوشی محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور چنیدہ لوگ جو اپنی نیکی اور تقویٰ اورمقامِ قرب میں ملائکہ سے بڑھ کر بلکہ ملائکہ کو سبق دینے والے ہوتے ہیں (جیساکہ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ سے ظاہر ہے) وفات پاجاتے ہیں تودنیا کے لوگ تو ان کی وفات پر رنج کا اظہار کرتے ہیں اور اس بات پرغمگین ہوتے ہیں کہ وہ اپنا دور ختم کرکے اگلے جہان چلے گئے۔مگر فرشتے اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ اب وہ ہمارے ملک میں آگئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب مدینہ میںکہرام پڑا ہواتھا۔جنت کے لوگوں میںکتنی خوشی منائی جارہی ہوگی۔لوگ خدا اور اس کے فرشتوں کی زبان سے سنتے ہوںگے کہ خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ دنیا میں پیدا ہوچکا ہے اور وہ بہت بلند روحانی مقامات رکھتا ہے۔ان باتوں کو سن سن کر جنتیوں کے دلوں میں کتنی خواہش پیدا ہوتی ہوگی اور وہ کس طرح اس بات کے تصور سے خوش ہوتے ہوںگے کہ کبھی یہ مبارک انسان ہم میں بھی آئے گا۔پس جب فرشتوں نے آپ کی روح قبض کی ہوگی اور جب جنتیوں کو پتہ لگا ہو گا کہ اب ان کی سالہا سال کی امیدیں برآنے لگی ہیں تو انہوں نے کیسی خوشی ظاہر کی ہوگی۔مگر بہرحال یہ آسمانی بات ہے زمین پریہی ہوتا ہے کہ موت پر رنج کا اظہار کیا جاتاہے جس طرح خدا تعالیٰ کی یہ دو صفات ہمیں دنیا میں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔اسی طرح کئی انسان ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کے لئے ولادت کا موجب بنتے ہیں یا اس کی حیا ت کا موجب ہوتے رہتے ہیں مثلاً ماں باپ ہی ہیں وہ نئی نسلیں دنیامیں لاتے ہیں۔ڈاکٹراور اطباء ہیں وہ مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔اسی طرح قومی خدمات