تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 40

بہت دیر کے بعد انہیں ہوش آئی (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب زیر عنوان ابو فکیہہ مولیٰ بن عبد الدار)۔حضرت لبینہ ؓ ایک لونڈی تھیں وہ بھی نہایت ابتدائی ایّام میں اسلام لائیں۔حضرت عمر ؓ اپنے اسلام لانے سے پہلے انہیں اسلام کی وجہ سے بڑی تکالیف دیا کرتے تھے مگر وہ بڑی مضبوطی سے اپنے ایمان پر قائم رہیں(السیرۃ الحلبیۃ باب استخفائہ صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ فی دارالارقم۔۔۔وما لقی ھو و اصحابہ من الاذی۔۔۔)۔زنیرہ ؓ بھی ایک لونڈی تھیں اور ابتدائی ایّام میں ہی ایمان لائی تھیں۔ابوجہل نے مار مار کر اُن کی آنکھیں پھوڑ دیں۔مگر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار نہ کیا۔ابو جہل انہیں دیکھ کر غصّہ سے کہا کرتا تھا کہ کیا ہم اتنے حقیر ہو گئے ہیں کہ زنیرہ ؓ نے تو سچا دین مان لیا اور ہم نے نہ مانا۔اسی طرح نہدیہ ؓ اور ام عبیس ؓ دو کنیزیں تھیں جو مکی زندگی میں اسلام لائیں۔اور دونوں نے اسلام لانے کی وجہ سے بہت سخت مصائب برداشت کئے۔عامر بن فہیرہ ؓ بھی ایک غلام تھے جنہیں حضرت ابوبکر ؓ نے آزاد کر دیا تھا۔انہیں بھی اسلام لانے کی وجہ سے سخت تکالیف دی گئیں۔حمامہ ؓ حضرت بلال ؓ کی والدہ تھیں یہ بھی اسلام لائیں اور انہوں نے اسلام کی خاطر بڑی تکالیف اٹھائیں پھر بعض غلاموں کو مکہ والوں نے اس طرح بھی قتل کیا کہ اُن کی دونوں ٹانگیں دو اونٹوں سے باندھ دیتے اور پھر ان اونٹوں کو مخالف اطراف میں دوڑا دیتے اور وہ کٹ کر ہلاک ہو جاتے (بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ اطلع الغیب ام اتخذ عند الرحمان عھدا، السیرۃ الحلبیۃ باب استخفاءہ صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ فی دارالارقم۔۔۔)۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والے ہوتے اور یہ غلام آپ کو قرآن بنا بنا کر دیا کرتے تو یہ لوگ یقیناً آپ کے دشمن ہوتے کہ آپ پر ایمان لا کر آپ کے لئے اپنی جانیں قربان کرتے۔کفار کے اس اعتراض کے ضمن میں دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ کیا یہ کلام ان غلاموں کا سکھا یا ہوا ہو سکتا ہے ؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ جنہیں تم قصے کہتے ہو وہ قصے ہے ہی نہیں بلکہ پیشگوئیاں ہیں۔اور ان کو بیان کرنے والا آسمانوں اور زمین کے غیبوں کو جاننے والا خدا ہے۔جس نے اپنے غفور اور رحیم ہونے کے سبب سے تمہارے علاج کا سامان کیا ہے یعنی اسرارِ آسمانی اور اسرارِ زمینی دونوں کو اس کتاب میں کھول کر بیان کر دیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ کا معاملہ جو بندوں سے ہوتا ہے اس پر بھی اس میں پوری تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور مختلف مواقع پر بندے جن خیالات اور جذبات کا اظہار کیا کرتے ہیں اُن کا بھی اس میں مکمل ذکر ہے ،پھر جس تعلیم میں تمام قسم کی