تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 39

اُن کو پتھروں پر گھسیٹا جاتا۔یہاں تک کہ اُن کے جسم چھل جاتے اور وہ شدید زخمی ہو جاتے جب کچھ عرصہ کے بعد اُن کے زخم مند مل ہو جاتے تو پھر دوبارہ اُن کو پتھروں پر گھسیٹتے اور یہ سلوک اُن سے متواتر جاری رکھا جاتا۔حضرت بلال ؓ کے متعلق تاریخوں میں آتا ہے کہ آپ کا آقا آ پ کو پیٹھ کے بل لٹا کر جو تیوں سمیت آپ کے سینہ پر کو دا کرتا۔اور کہتا کہو خدا کے سوا اور بھی بہت سے خدا ہیں اور اس پر بار بار اصرار کرتا۔حضرت بلالؓ حبشی تھے اور اس وجہ سے عربی اچھی طرح بول نہیں سکتے تھے جب کفا ر زیادہ ظلم کرتے اور اصرار کرتے کہ آپ توحید کے خلاف کوئی بات کہیں تو آپ بڑے جوش سے کہتے اَحَدٌ اَحَدٌ خدا ایک ہی ہے۔خدا ایک ہی ہے اس پر کفار اُن پر اور بھی مظالم کرنے لگ جاتے خبابؓ بن الارت بھی ایک غلام تھے جو آہنگری کا کام کیا کرتے تھے وہ نہایت ابتدائی ایام میں آپ پر ایما ن لائے۔لوگ انہیں سخت تکالیف دیتے تھے حتی کہ انہی کی بھٹی کے کوئلے نکال کر اُن پر انہیں لٹادیتے اور اوپر سے چھاتی پر پتھر رکھ دیتے تاکہ آپ کمر نہ ہلا سکیں۔اُن کی مزدوری کا روپیہ جن لوگوں کے ذمہ تھا وہ روپیہ ادا کرنے سے منکر ہوگئے۔مگر باوجود ان مالی اور جانی نقصانوں کے وہ ایک منٹ کے لئے بھی متذبذب نہ ہوئے۔اور ایمان پر ثابت قدم رہے آپ کی پیٹھ کے نشان آخر عمر تک قائم رہے۔چنانچہ حضرت عمر ؓ کی خلافت کے ایّام میں انہوں نے اپنے گذشتہ مصائب کا ذکر کیا تو انہوں نے اُسے پیٹھ دکھانے کو کہا۔جب انہوں نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا اٹھایا تو تمام پیٹھ پر ایسے سفید داغ تھے جیسا کہ برص کے داغ ہو تے ہیں۔حضرت سمیہ ؓ ایک لونڈی تھیں۔ابوجہل ان کو سخت دُکھ دیا کرتا تھا تاکہ وہ ایمان چھوڑ دیں لیکن جب اُن کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ ہوئی تو ایک دن ناراض ہو کر ابوجہل نے ان کی شرمگاہ میں نیز ہ مارا اور انہیں شہید کر دیا۔حضرت عمار ؓ جو سمیہ ؓ کے بیٹے تھے انہیں بھی تپتی ریت پر لٹا یا جاتا اور انہیں سخت دکھ دیا جاتا۔ایک غلام صہیب ؓ تھے جو روم سے پکڑے ہوئے آئے تھے یہ عبداللہ بن جدعان کے غلام تھے جنہوں نے اُن کو آزاد کر دیا تھا۔یہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ ؐکے لئے انہوں نے کئی قسم کی تکالیف اٹھائیں(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب زیر عنوان صہیب بن سنان الرومی)۔پھر ابو فکیہہؓ ایک غلام تھے وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدائی ایّام میں ایمان لائے۔انہیں بھی گرم ریت پر لٹایا جاتا۔ایک دفعہ رسی باندھ کر انہیں کھینچا جا رہا تھا کہ پاس سے کوئی جانور گذرا۔اُن کے آقا نے اس کی طرف اشارہ کر کے انہیں کہا یہ تمہارا خدا جارہا ہے۔انہوں نے کہا میرا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے۔اس پر اس ظالم نے اُن کا گلا گھونٹا اور پھر ایک بھاری پتھر اُن کے سینہ پر رکھ دیا جس سے اُن کی زبان باہر نکل آئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔لوگوں نے سمجھا کہ وہ مر گئے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔آخر