تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 41

فطرتوں کے راز بیان کر دئیے گئے ہیں خواہ وہ عرب میں ہوں یا ہندوستان میں ہوں۔یا امریکہ میں ہوں یا یورپ میں ہوں اور ہر قسم کی فطری ضروریا ت کا سامان اس میں موجود ہے۔ادھر خدا تعالیٰ کے وہ تمام قسم کے سلوک جو اس کے بندوں سے ہوتے ہیں چاہے وہ پہلے ہوئے ہوں یا آئندہ ہوںگے۔ان سب کو اس میں بیان کیا گیا ہے۔اس تعلیم کو ان تعلیمات کی نقل کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔آخر کون سی سابق تعلیم ایسی ہے جس میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔پہلی کتابیں تو وہ تھیں جن کا دائرہ ہدایت بہت محدود تھا۔وہ محدود الزمان اور محدود الاوقات تعلیمات تھیں اور پھر صرف ایک ایک علاقہ کے لئے تھیں۔ساری دنیاکے لئے نہیں تھیں اس لئے ان کتب میں ہر فطرت کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔تورات میں صرف یہودی قوم کی اصلاح کو مدنظر رکھا گیا ہے باقی قوموں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔اسی طرح اس میں سارے زمانوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔مگر قرآن وہ کتاب ہے جو ساری قوموں اور سارے زمانوںکے لئے ہے۔وہ یہودیوںکے لئے بھی ہے وہ عیسائیوںکے لئے بھی ہے۔وہ مسلمانوںکے لئے بھی ہے۔وہ ہندوؤںکے لئے بھی ہے۔وہ یوروپین لوگوںکے لئے بھی ہے۔وہ چینیوںکے لئے بھی ہے وہ جاپانیوںکے لئے بھی ہے۔وہ وحشیوںکے لئے بھی ہے اور غیر وحشیوںکے لئے بھی ہے۔غرض کوئی قوم ایسی نہیں جس کی ہدایت کے لئے قرآن نہ آیا ہو۔اور کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں قرآن کی ضرورت سے انکار کیا جا سکتا ہو پھر جب قرآن کریم کی یہ شان ہے تو یہ لوگ کس طرح کہتے ہیں کہ یہ قرآن پہلی کتابوں کی نقل ہے۔پُرانے لوگوں کے حالات تو تاریخ سے ہر ایک کو معلوم ہو جاتے ہیں۔لیکن اس کتاب میں تو وہ اسرار اور پیشگوئیاں بھری ہوئی ہیں جن کو کوئی بندہ جان ہی نہیں سکتا۔پھر اس علمِ غیب کو پُرانے لوگوں کے واقعات کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو اس زمانہ میں جبکہ اسلام ابھی مکّہ کی چار دیواری میں محدود تھا اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کو بڑی بڑی تکالیف دی جارہی تھیں اُن کو قتل کیا جا تا تھا۔ان کو مارا پیٹا جا تا تھا۔اُن کا بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔اُن کی جائیدادیں اور مکان چھینے جاتے تھے اور جبکہ مکّہ والوں کے زمین کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہیں آسکتا تھا کہ وہ تباہ ہو جائیںگے اور عنانِ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ آجائی گی اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ۔كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ اُولٰٓىِٕكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ۔اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ۔سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ ( القمر :۴۲ تا ۴۷) یعنی ہم نے موسیٰ ؑ کے ذریعہ فرعون کو جو مصرکا بادشاہ تھا اور بنی اسرائیل پر ظلم کیا کرتا تھا ڈرایا کہ دیکھو ہمارے بندے کا مقابلہ نہ کرو ورنہ نقصان اٹھائو گے۔مگر اُس نے پرواہ نہ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی بے اعتنائی اور تکذیب کی وجہ سے ہم نے اُس کو پکڑ لیا اور پھر