تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 435

کے اوباش اور شریر لڑکے اُس کو دق کرنے کےلئے اُس پر حملہ کرتے ہیں تو اُن کی آواز سن کر اُس لڑکے کی ماں بیتاب ہوکر اپنے گھر سے باہر نکل آتی ہے اسی طرح میرا رب العالمین خدا میرے ساتھ ہے۔تم میری کتنی بھی مخالفت کرو اور مجھے کچلنے کےلئے خواہ انتہائی طاقت صرف کردو یہ کبھی نہیںہوسکتا کہ میرا خدا مجھے چھوڑ دے اور تمہارے بت خدائے واحد پر غالب آجائیں۔دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ۔دنیا کے بڑے سے بڑے مدبّر۔دنیا کے بڑے سے بڑے لیڈر انسانی امداد پر بھروسہ کرتے ہیں۔اُن کی تکلیفوںکے وقت کچھ انسان آگے آتے ہیں جو بعض دفعہ کامیاب ہوتے ہیںاور بعض دفعہ ناکام۔مگر جب کسی مومن کو تکلیف دی جاتی ہے تو خدائے واحد خود آسمان سے اتر آتا ہے اور وہ لڑنے والوں کے سامنے سینہ سپر ہو جاتا ہے۔اور یہ ایک بہترین انعام ہے جو کسی قوم یا فرد کو حاصل ہو سکتا ہے یہی انعام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کو حاصل ہوا۔یہی انعام ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو حاصل ہوا۔یہی انعام ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو حاصل ہوا۔اور یہی انعام ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو حاصل ہوا کہ ایک زندہ خدا اور طاقتور خدا ان کے ساتھ تھا۔اور جب بھی دشمن حملہ آور ہوتا تھا خدا آسمان سے اتر کر اُن کےساتھ کھڑا ہوجاتا تھااور وہ ان کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کرتا تھا اور اس کایہ پیار اتنی قیمتی چیز تھا کہ اگر جائز ہوتا تو انسان تمنا کرتا کہ لوگ میری اور بھی دشمنی کریں تاکہ میرے خدا کی محبت میرے لئے اور زیادہ جوش مارے مگراسلام نے ایسی خواہش سے منع کردیا ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لَا تَتَمَنُّوْالِقَآءَ الْعَدُوِّ (بخاری کتاب التمنی باب کراھیة تمنی لقاء العدو) اے مومنو! تم کبھی دشمن کے حملہ کی تمنا نہ کرو۔آخر ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس فقرہ کے معنے کیا ہیں؟ کون ہے جو دشمن کے حملہ کی تمنا کیا کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ جہاں تک لڑائی کا تعلق ہے۔جہاں تک مرنے کا تعلق ہے جہاں تک تکالیف کا تعلق ہے کوئی شخص بھی دشمن کے حملہ کی تمنا نہیں کر سکتا۔مگر مسلمان ایسی حالت میں تھے کہ ان کے دل اسی نکتہ کے ماتحت جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے بعض دفعہ خواہش کرسکتے تھے کہ کاش ہمار ا دشمن ہم پر حملہ کرے تاکہ ہمارا خدا پھرہماری مدد کےلئے ہمارے پاس آجائے۔پس صر ف یہی وجہ تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مسلمانو! جب دشمن تم پر حملہ کرتا ہے تو خدا تمہارے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے اوریہ بات تمہیں اتنی لذیذ معلوم ہوتی ہے اور تمہیں اس میںاتنا مزا آتا ہے کہ جب دشمن حملہ چھوڑ دیتا ہے تو تم کہتے ہو۔کاش ہمار ا دشمن ہم پر پھر حملہ کرے۔تاہمارا خدا پھر ہمارے پاس آجائے۔مگر یہ خواہش جہاں تک عشق کا سوال ہے وہاں تک تو درست ہے لیکن الٰہی حکمتوں اور منشاء کے خلاف ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے ادب کے لحاظ سے