تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 430

ایک نیبوؔ یعنی نبی دیوتا یا معلم تھا۔(نیلسنز انسائیکلوپیڈیا بیبلونیا کے ماتحت) اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے انہی واقعات کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ اگرموسیٰ ؑ اور فرعون کے واقعات سے بھی یہ لوگ کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے تو پھر تو ان کے سامنے ابراہیم ؑکے واقعات بیان کر کیونکہ ابراہیم ؑ وہ نبی ہے جس کی عزت مکہ والوں کے قلوب میں جاگزیں ہے۔اور خصوصیت کے ساتھ ان کے سامنے وہ واقعہ بیان کرجبکہ اُس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس چیز کی عباد ت کرتے ہو؟ چونکہ ان کی قوم نے سورج اور چاند اور ستاروں کے نام پر کئی قسم کے بت بنائے ہوئے تھے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔اس لئے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال کیا تو انہوں نے کہاکہ ہم تو بت پوجتے ہیں۔اور سارا دن اُن کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا۔اچھا جب تم ان کو پکارتے ہوتو کیا اُن کی طرف سے کوئی جواب بھی ملتا ہے جس سے پتہ لگے کہ انہوں نے تمہاری دعائیں سن لی ہیں یا نفع اور ضرر کی شکل میں کوئی نتیجہ بھی نکلتا ہے ؟ یعنی اگر وہ واقعہ میں اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتے ہیںتو جس طرح خدا تعالیٰ لوگوں کی دعائیں سنتا ہے اسی طرح ان بتوں کوبھی تمہاری دعائیں سننی چاہئیں۔اور جس طرح خدا اپنے بندوں کو ہر قسم کی تکالیف سے بچاتا اور اُن کےلئے رحمت اور برکت کے سامان پیدا کرتا ہے اسی طرح ان بتوںکے اندر بھی یہ طاقت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو فائدہ پہنچائیں اور جو لوگ ان کا انکار کریں انہیں تباہ کردیں۔مگر کیا یہ بت ایسا کرسکتے ہیں؟ کیا یہ تمہاری باتوں کا جواب دیتے ہیں ؟ یا کیاان میں طاقت ہے کہ وہ تمہاری کسی تکلیف کو دور کرسکیں یا تمہیں کوئی نفع پہنچا سکیں۔اگر ان میں کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی تو پھر تم ایسے بتوںکی پرستش کر رہے ہو جونہ سنتے ہیں نہ بولتے ہیں اور نہ نفع اور ضرر کی اپنے اندر کوئی طاقت رکھتے ہیں۔یہ دلیل ایسی زبردست ہے کہ ایک صحابیؓ کہتے ہیں۔مجھے اسلام قبول کرنے کی تحریک صرف اس لئے ہوئی کہ میں ایک دفعہ سفر پر گیا تو عرب کے دستور کے مطابق میں نے پتھر کا ایک چھوٹا سا بت اپنے ساتھ رکھ لیا تاکہ وہ ضرورت کے وقت کام آئے۔ایک دفعہ جب کہ میں ایک جنگل میں سے گزر رہاتھا مجھے کوئی ضروری کام پیش آ گیا۔میں نے اپنا اسباب وہیں رکھا اور بت کو پاس بٹھا کر کہا کہ حضور میں تھوڑی دیر کے لئے باہر جارہا ہوں آپ مہربانی فرما کر میرے سامان کی حفاظت کریں۔جب میں واپس آیا تو ایک گیدڑ ٹانگ اٹھا کر اُس بت پر پیشاب کررہا تھا یہ دیکھ کر میرے دل میں ایک آگ لگ گئی اور میں نے کہا کہ جو بت گیدڑ کے پیشاب سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکا اُس نے میرے اسباب کی کیا حفاظت کرنی ہے چنانچہ میں نے اُس بت کو وہیں پھینکا اور واپس آکر مسلمان ہوگیا۔