تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 429

خدا ہے۔ابراہیم ؑ نے کہا کہ میں اسے نذر چڑھائوں گا۔اور عمدہ کھانا پکواکر اس کو دیا اُس نے نہ کھایا تو اور اچھا کھانا پکوا کر سامنے رکھا جب پھر بھی اس نے نہ کھا یا اور نہ کوئی جواب دیا تو آگ سے اس کو اور دوسرے بتوں کو جلا دیا جب تارہؔ واپس آیا تو اُس نے پوچھا۔ان کو کس نے جلایا ہے۔انہوں نے کہا۔بڑا چھوٹوں پر ناراض ہوگیا۔اور غصہ میں اُس نے ان کو جلا دیا۔باپ نے کہا۔بیوقوف جو نہ سنے نہ دیکھے نہ چل سکے۔وہ یہ کام کس طرح کر سکتا تھا۔انہوں نے کہا۔پھر تم زندہ خدا کو چھوڑ کر اِن کے پیچھے کیوں چل پڑے ہو۔ایک دن ایک عورت کھانے کی کوئی چیز نذر لائی۔ابراہیم ؑ نے کہا۔اِن کے منہ ہیں پر بولتے نہیں۔آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں۔کان ہیں مگر سنتے نہیں۔ہاتھ ہیں مگر پکڑ نہیں سکتے۔اِن کے بنانے والوں اور ان پر اعتبار کرنے والوں کا بھی یہی حال ہو۔یہ کہہ کرآپ نے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔اور پھر انہیں جلا دیا۔اِس پر آپ نمرودؔ کے سامنے پیش کئے گئے۔اُس نے ان کو کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ میں خدا اور دنیا کا حاکم ہوں۔آپ نے جواب دیا۔اگر تو خدا اور دنیا کا حاکم ہے توکیوں سورج کو مغرب سے نکال کر مشرق کی طرف نہیں چڑھاتا۔اگر تو خدا اور دنیا کا حاکم ہے تو بتا میرے دل میں اس وقت کیا ہے اور میرا آئندہ کیا حال ہوگا؟ نمرودکی زبان بند ہوگئی اور وہ حیران رہ گیا۔اور ابراہیم ؑ نے اپنی بات کو جاری رکھا اور کہا کہ تُو کونسؔ کا بیٹا ہے اور اُسی کی طرح ایک فانی وجود ہے تواپنے باپ کو موت سے نہیں بچا سکا۔اور نہ تُو خود اس سے بچ سکتا ہے۔یہ بھی لکھا ہے کہ نمرودؔ نے کہا۔آگ کو پوج۔ابراہیم ؑ نے کہا۔پانی کو کیوں نہیں وہ تو اُسے بجھا دیتا ہے۔اُس نے کہا۔بہتر اُسی کو سہی۔انہوں نے کہا۔بادلوں کو کیوں نہیں جو پانی سے پُر ہوتے ہیں۔اُس نے کہا۔اُنہی کو سہی۔انہوں نے کہا۔ہوا ان کو بھی اڑا دیتی ہے اُس نے کہا اُس کوپوج۔انہوں نے کہا۔انسان اس کے صدمہ سے بھی بچ جاتا ہے اور مکانوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔اس نے کہا پھر میں انسانوں کا بادشاہ ہوں۔مجھے پوج۔انہوں نے کہا۔اگر تو خدا ہے تو پھر سورج کو مغرب کی طرف سے نکال کردکھا۔اس پر نمرود ؔ نے ابراہیم ؑ کے جلانے کا حکم دے دیا۔ایک لکڑیوں کا انبار پانچ گز مربع جمع کیا گیا اور اُس کو آگ لگائی گئی اور ابراہیم ؑ کو اُ س میں ڈالا گیا۔اِسی کی طرف پیدائش باب۱۵ آیت ۷ میں اشارہ ہے۔بعض نسخوں میں اس جگہ لکھا ہے کہ ’’ تجھے کسدیوں کی آگ سے نکال لایا۔‘‘ (جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظABRAHAM) چیلڈنیز میں سورج کی پرستش خاص طور پر کی جاتی تھی (نیلسن انسائیکلو پیڈیا ببلونیا ) چیلڈ نیز کا خدا MENODACK نامی تھا جو سورج کی شعاع یادن کی روشنی سمجھا جاتاتھا۔اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بنی نوع انسان کو نفع پہنچاتا ہے۔اس کا نام بعل یعنی آقا بھی تھا۔اِس کے علاوہ اُن کا ایک بت شمسؔ تھا یعنی سورج دیوتا۔ایک سینؔ تھا یعنی چاند دیوتا۔