تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 416
دیا تھا اس لئے ہم ہی فرعون اور اس کے لشکر کو نکالنے والے بن گئے۔اور آخر ان نعمتوں کا ہم نے بنی اسرائیل کو وارث بنادیا۔اَوْرَثْنٰهَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَسے یہ مراد نہیں کہ انہی باغوںاور انہی چشموں اور انہی خزانوں کا وارث بنادیا۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ انہیں اسی قسم کے باغوں اور چشموں اور خزانوں کا فلسطین میں وارث بنادیا۔یہ ایک غلط خیال ہے جو بعض لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل کو مصر پر غلبہ حاصل ہوگیا تھا۔اس خیال کی نہ قرآنِ کریم سے تصدیق ہوتی ہے اور نہ بائیبل سے۔قرآنِ کریم اور بائیبل دونوں سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ تک بیابانوں میں پھرتے رہے اور آخر چالیس سال کے بعد انہیںکنعان پر قبضہ ملا۔پس اَوْرَثْنٰهَا سے ملک مصر مراد نہیں بلکہ وہ جگہ مراد ہے جہاں انہیں سب چیزیں میسر آگئیں۔یعنی فلسطین کا ملک۔جو اپنے باغات اور چشموں میں مصر کے بالکل مشابہ ہے۔فَاَتْبَعُوْهُمْ۠ مُّشْرِقِيْنَ سے ظاہر ہے کہ سورج نکلتے وقت فرعون کا لشکر اُن کے پیچھے چلا تھا۔کیونکہ فرعون نے بھی اپنا لشکر جمع کرنا تھا۔اورموسیٰ ؑ پہلے سےتیار تھے۔پس موسیٰ ؑ پہلے نکل گئے اور فرعون پیچھے نکلا مگر جاتے جاتے جب لشکر فرعون اورموسیٰ ؑ کے ساتھیوں کا آمنا سامنا ہوا توموسیٰ ؑ کے ساتھی جو صدیوں سے فرعون کے غلام چلے آرہے تھے ڈر گئے اور شور مچانے لگے کہ اےموسیٰ ؑ! ہم تو مارے گئے اور پکڑے گئے۔اس پرموسیٰ ؑ نے کہا کہ ایسا گمان مت کرو۔اُس لشکر کے ساتھ فرعون ہے اور میرے لشکر کے ساتھ خدا ہے اور خدا تعالیٰ یقیناً ہمیں پار لے جائے گا۔خدا تعالیٰ پر توکل کا یہ ایک نہایت ہی شاندار نمونہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دکھایا مگر اس صداقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انتہائی خطرات میں چاروں طرف سے گھرے ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر جس کامل یقین اور ایمان کا مظاہرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیںدکھائی دیتا ہے وہ اس واقعہ سے کہیں زیادہ شاندار اور ایمان افزا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت ؔ کا حکم ملا تو آپؐ حضرت ابوبکر ؓ کو اپنے ساتھ لے کر جبلِ ثور کی طرف تشریف لے گئے جو مکہ سے کوئی چھ سات میل کے فاصلہ پر ہے اور اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار میں چھپ کر بیٹھ گئے۔صبح جب کفار نے دیکھا کہ آپؐ اپنے گھر میں موجود نہیں اور ہر قسم کے پہرہ کے باوجود محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامیابی کے ساتھ نکل گئے ہیں تووہ فوراًآپ کی تلاش میں نکل کھڑ ے ہوئے اور انہوں نے مکہ کے چند بہترین کھوجی جو پاؤں کے نشانات پہچاننے میں بڑی بھاری دسترس رکھتے تھے اپنے ساتھ لئے جو انہیں جبلِ ثور تک لے آئے اور انہوں نے کہا کہ بس محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہیں تو یہیں ہیں۔اس