تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 415

فَاَتْبَعُوْهُمْ۠ مُّشْرِقِيْنَ۰۰۶۱فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ کے وقت وہ (یعنی فرعون اور اُس کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل کو روکنے کےلئے )اُن کے پیچھے چل پڑے۔مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ۰۰۶۲قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ پھر جب دونوں گروہ ایک دوسرے کے سامنے ہوئے توموسیٰ ؑ کے ساتھیوں نے کہا۔ہم تو پکڑے گئے۔سَيَهْدِيْنِ۰۰۶۳ (موسیٰ نے ) جواب دیا۔ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔میرا رب میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے کامیابی کا راستہ دکھا ئے گا۔حلّ لُغَات۔کُنُوْزٌ۔کُنُوْزٌکَنْزٌ کی جمع ہے اور اَلْکَنْزُ کے معنے ہیں وہ مال جو کسی جگہ میں محفوظ ہو۔اِسی طرح اس کے معنے ہیں الذَّھَبُ سونا۔اَلْفِضَّۃُ۔چاندی۔مَایُحْرَزُفِیْہِ الْمَالُ کَالْمَخْزَنِ وَالصَّنْدُوْقِ۔وہ صندوق یا الماری جس میں مال محفوظ کیا جائے اُس کو بھی کَنْزٌ کہتے ہیں (اقرب) مُشْرِقِیْنَ۔مُشْرِقِیْنَ مُشْرِقٌ سے جمع کا صیغہ ہے جو اَشْرَقَ سے اسم فاعل ہے اور اَشْرَقَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں دَخَلَ فِیْ شُرُوْقِ الشَّمْسِ۔کسی جگہ اُس وقت داخل ہوا جب کہ سورج نکل رہاتھا (اقرب)پس مُشْرِقٌ کے معنے ہیں کسی جگہ صبح کے وقت داخل ہونے والا۔تفسیر۔فرعون کو چونکہ اپنی کثر تِ تعداد اور طاقت پر غرور تھا اور وہ بنی اسرائیل کو بالکل حقیر سمجھتا تھا۔اس لئے جب موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر نکلے تو فرعون کو بھی پتا لگ گیا۔اور وہ اپنالاؤ لشکر جمع کرکےموسیٰ ؑ کے پیچھے چلا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اس نے ایسا کیا تو ہم نے بھی فرعون اور اس کی جماعت کو باغوں اور چشموں اور خزانوں اور عزت والے ملک میں سے نکال دیا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ وہ خود وہاں سے نکلے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ہم نے اُن کو نکالا۔حالانکہ بظاہر واقعہ یہ تھا کہ وہ خود وہاں سے نکلے تھے۔درحقیقت اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ وہ موسیٰ ؑ کے آنے اور اُ ن کے نکلنے کی وجہ سے باہر نکلا تھا اورموسیٰ ؑ کو بھیجنا اور بنی اسرائیل کو نکالنے کا حکم دینا خدا تعالیٰ کا کام تھا اس لئے بالواسطہ طور پر خدا تعالیٰ ہی فرعون اور اس لشکر کو نکالنے کا موجب بنا اور خدا تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کیا اور بتایا کہ گو وہ خود نکلا تھا مگر چونکہ یہ تحریک ہماری طرف سے تھی اور ہم نے ہی موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل کے نکالنے کا حکم