تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 408
کردے گا کیونکہ ہم ایسے برے ماحول میں سب سے پہلے خدا تعالیٰ کے نبی پر ایمان لائے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک کسی انسان کو خدا نظرنہیں آتا دنیاکی مصیبتیں اسے پہاڑ اور اس کے ابتلاء اسے بے کنار سمند ر نظر آتے ہیں۔مگر جب خدا نظر آجاتا ہے تو اس کی نگاہ میں ساری چیزیں ہیچ ہوجاتی ہیں۔تب ایک ہی چیز اس کے سامنے ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا قول پوراہو اور خدا کے قول کے مقابلہ میں نہ حکومتیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں نہ بادشاہتیں کوئی حقیقت رکھتی ہیںاور نہ جائیدادیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔وہ ہنستا ہوا جاتا اوراپنی قربانی پیش کرکے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاتا ہے۔ہماری جماعت کے صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ ہمارے جیسے ہی ایک انسان تھے۔مگر جب بادشاہ نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھیں مولوی صاحب میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے اور میں آپ کو رہا کرنا چاہتا ہوں لیکن اگر یوں ہی چھوڑ دوںتو مولوی میرے مخالف ہوجائیں گے۔آپ صرف اتنا کریں کہ جب آپ سے پوچھا جائے کہ کیا آپ قادیانی ہیں تو آپ خواہ دل میں کچھ عقائد رکھیں زبان سے کہہ دیں کہ میں قادیانی نہیں ہوں اس طرح میں آپ کو آسانی سے چھوڑ سکوں گا۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف ؓ صاحب نے کہا۔بادشاہ تمہیں جان کی قیمت معلوم ہوتی ہو گی۔مجھے تو اس کی کوئی قیمت معلوم نہیںہوتی اور میں تو یہ قربانی پیش کرنے کے لئے ہی تمہارے پاس آیا ہوں۔مجھے تو پہلے ہی کہا گیا تھا کہ میں احمدیت کا اظہار نہ کروں مگر میں نےانکار کردیا۔دراصل وہ گورنر جس کے سامنے وہ پہلی دفعہ پیش ہوئے۔وہ بھی ان کے شاگردوں میں سے تھا۔جب آپ اس سے ملے تو اس نے بھی کہا۔کہ آپ یہاں سے بھاگ جائیں۔ورنہ آپ کی جان خطرہ میں پڑجائے گی۔صاحبزادہ صاحبؓ نے کہا۔تمہاری ہتھکڑیاں کہاں ہیں لائو اور میرے ہاتھو ں میں پہنائو۔مجھے تو آج رات خدا نے بتا یا ہے کہ مجھے سونے کے کنگن ڈالے جائیں گے۔پس میں اپنی موت سے نہیں ڈرتا۔میں تو قوم کی نجات کے لئے اپنی جان پیش کرنا چاہتاہوں۔پھر جب انہیں پتھرائوکیا گیا۔تو اس وقت بھی ان کے دل میں اپنی قوم کا کوئی کینہ اور بغض نہیں تھا۔بلکہ سنگسارکرنے سے پہلے جب انہیں گاڑنے لگے۔اور گاڑتے اس لئے ہیں کہ پتھر و ں کے ڈر سے انسان بھاگ نہ جائے تو صاحبزادہ صاحب ؓنے کہا کہ میں بھاگتا تو نہیں۔مجھے گاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر جب اُن پر پتھر پڑنے لگے تو دیکھنے والوں کی گواہی ہے کہ صاحبزادہ صاحبؓ بلند آوازسے یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ اے میرے رب!میری قوم پر رحم کر۔کیونکہ وہ جہالت سے ایسا کررہی ہے (تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۹ تا ۶۰)۔یہ وہ شاندار نمونے ہیں جو قوموں کو زندہ کیا کرتے ہیں۔بیشک اُن میں کچھ کمزور بھی ہوتے ہیں مگر نوجوان جب اس قسم کے نمونہ کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کیسا اچھا انجام تھا آؤ ہم بھی ایسی ہی قربانی