تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 409

کریں اور وہ بھی آگ اور خون کے دریا میں چھلانگیں لگا دیتے ہیں۔یہی حکمت ہے جس کی بناء پر انجیل میں روحانی بادشاہت کو انگور کے باغ سے تشبیہ دی گئی ہے (لوقاباب ۲۰آیت ۹تا۱۸)۔کیونکہ انگور کی بیل ہی ایک ایسی بیل ہوتی ہے جس کو سرسبز وشاداب کرنے کے لئے خون کی کھاد ڈالی جاتی ہے پس اس مثال میں اسی طرف اشارہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے دین کو تازہ کرنے کے لئے ہمیشہ انسانی قربانیوں کی ضرورت ہوگی اور انسانوں کے خون اس باغ کی جڑوں میں گرا کر اسے پھر زندہ اور سرسبزو شاداب کیا جائے گا۔چنانچہ روحانی سلسلوں کی ایک لمبی تاریخ اس صداقت کو واضح کرتی ہے۔آج تک کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس کی جماعت شدید ترین مصائب میں سے نہ گزری ہو۔ان کو گرفتار کیا گیا۔اُن کو قتل کیا گیا۔اُن کو پھانسی پر لٹکایا گیا اُن کو تلواروں سے شہید کیا گیا۔مگر ان تمام تکالیف کے باوجود صداقت دنیا پر ہمیشہ غالب آئی۔حضرت داؤدؑ کے بعد بخت نصر نے بیت المقدس کی ساری عمارتیں تہہ و بالا کردی تھیں اور مسجد اقصیٰ کا نشان تک بھی اُس نے نہ چھوڑا تھا (انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ Nebuchadnezzar)۔مگر ان باتوں سے کیا ہوا۔بات تو وہ تھی جوموسیٰ ؑ لایا۔مگرموسیٰ ؑ کی لائی ہوئی بات آ ج تک دنیا نہیں مٹا سکی۔ان کی عزت آج بھی دنیا میں قائم ہے اور آج بھی ان کے ناموں پر اپنی جانیں قربان کرنے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں۔آج ایک زندہ اور باجبروت اور قاہر اور خبر دار اور منتظم بادشاہ کو گالی دے کر ایک انسان سزا سے بچ سکتا ہے۔اس کی گرفت سے بھاگ سکتا ہے لیکن یہ لوگ جو انسانوں جیسے انسان تھے اوّل تو فقیری میں انہوں نے عمر گزاردی اور اگر بعض بادشاہ بھی ہوئے تو اُن کی بادشاہتیں اپنی دنیوی عظمت کے لحاظ سے بہت سے دنیوی بادشاہوں سے کم تھیں۔لیکن آج جب کہ وہ منوں مٹی کے نیچے دفن ہیں اور بعض کی نسلوں کا بھی کوئی پتہ نہیں چلتا۔اور بعض کی اُمتیں بھی مٹ چکی ہیں کوئی زبردست سے زبردست بادشاہ بھی بے ادبی سے اُ ن کا نام لے تو وہ ذلّت و رسوائی سے بچ نہیں سکتا کیونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کی چھری کو خوشی سے اپنی گردنوں پر پھروالیا اور وہ خدا کے برّے قرار پائے گویا جس طرح ایک بکری کا گوشت اُس کے ذبح ہوجانے کے بعد انسان کی غذا بن کر انسان ہوجاتا ہے اسی طرح جو لوگ خدا کے برے بن کر قربان ہوجاتے ہیں وہ بھی خدا میں شامل ہو جاتے ہیں۔اور ابدی بادشاہت اُن کو عطا کی جاتی ہے۔موسیٰ ؑ پر ایمان لانے والے ساحروں نے بھی قربانی کا یہی شاندار نمونہ دکھایا۔اور انہوں نے فرعون سے کہہ دیا کہ ہمارے دل اب نُور ایمان سے منور ہو چکے ہیں اب تیری کوئی بھی تکلیف ہمیں جادئہ حق سے منحرف نہیں کرسکتی۔یہی ایمان ہے جو انسان کی نجات کا باعث بنتا ہے اوریہی قربانی کی رُوح ہے جو قوموں کو دنیا پر غالب کیا کرتی ہے۔