تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 407
رہے تھے اُس کو جلدی جلدی ملیامیٹ کرنے لگا۔خِلَافٍ۔خِلَافٌ کے معنے مخالفت کے بھی ہیں۔او ر اس کے معنے یہ بھی ہیں کہ دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں۔(اقرب) ضَیْرَ: اَلضَّیْرُ کے معنے اَلْمَضَرَّۃُ کے ہیں یعنی نقصان۔(مفردات ) تفسیر۔جب مداریوں نے اپنی رسیّاں اور سونٹے پھینک دیئے توموسیٰ ؑ نے بھی اپنا عصا اُٹھا کر دے مارا۔اور چونکہ ان رسیّوں اور سونٹوں میں انہوں نے پارہ بھر رکھا تھا جس سے وہ ہلتی تھیں۔اس لئے جب موسیٰ ؑ کاسونٹا اُن کو زور سے لگا تو اُن میں سوراخ ہوگئے اور ان کا سارا فریب کھل گیا۔گویا تمثیلی زبان میںموسیٰ ؑ کا سونٹا اُن کے فریب کو کھا گیا۔جس پر مداری جو اپنی حقیقت کو خوب جانتے تھے۔سجدے میں گر گئے اور چلا اٹھے کہ ہم رب العالمین خدا پر جوموسیٰ ؑ اور ہارونؑ کا خدا ہے ایمان لاتے ہیں ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ موسیٰ ؑ نبی ہے اور ہم محض مداری ہیں۔اس جگہ اُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَکے الفاظ فرما کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جادوگروں کی یہ شکست ایسی نمایاں تھی کہ انہیں یوں محسوس ہوا کہ گویا کسی خفیہ طاقت نے ان کے پاؤں تلے سے زمین نکال لی ہے اور وہ خدا کے سامنے سجدہ میں گرا دیئے گئے اور انہوں نے بلند آواز سے اس امر کا اقرار کیا کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لاتے ہیں اورموسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کی اتباع کرتے ہیں۔اس پر فرعون غصہ میں آگیا اور اس نے کہاکہ کیا تم میری اجازت سے پہلے اس پر ایمان لے آئے ہو۔معلوم ہوتا ہے یہ تمہار ا سردار ہے جس نے تم کو مداریوں کا فن سکھایا ہے۔پس تم جلدی ہی اپنے اس فعل کا نتیجہ دیکھ لو گے۔گویا اتنی جلد ی وہ بھول گیا کہ ابھی تو میں ان کو خدا کے ایک نبی کے مقابلہ میں کھڑا کررہاتھا اور ان کو اپنامقرب بنانے کی پیش کش کررہا تھا اور ابھی ان کو اتنا ذلیل قرار دے رہا ہوں کہ جو چاہوں ان کو سزاد ے لوں۔چنانچہ بولا کہ چونکہ تم میرے مخالف چل پڑے ہو۔اس لئے اس جرم کی وجہ سے میں تمہارے ہاتھ اور پیر کاٹ دوں گا اور پھر تم سب کو صلیب پر لٹکا دوں گا۔تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔مگر وہ پیسے لے کر تماشا دکھا نے والے مداری اب مومن بن چکے تھے۔وہ فرعون جیسے لوگوں کی دھمکیوں سے کب مرعوب ہوسکتے تھے انہوں نے جھٹ کہا۔اس میںکوئی حرج نہیں ہم نے ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہی ہے اگر تمہارے ہاتھ سے مارے گئے تو کون سی بڑی بات ہے اگرتم نے ہم کو مارا تو ہمارا فائدہ ہی ہے۔دین کی خاطر دکھ اٹھانے کی وجہ سے ہمارا رب ہمارے گناہ معاف