تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 402

یہی مخالفت کا جذبہ فرعون اور اس کی قوم کے اکابر کے دل و دماغ پربھی حاوی تھا۔چنانچہ انہوں نے لوگوں کو جمع کیا۔مگر انہیں یہ کہنے کی توفیق نہ ملی کہ اگر اس مقابلہ کے نتیجہ میں موسیٰ ؑ غالب آگیا تو ہم موسیٰ ؑ کے پیچھے چل پڑیںگے اور اس کی بات مان لیں گے۔بلکہ انہوں نے اگر لوگوں کے کان میں کوئی بات ڈالی تو صرف یہی کہ اگر جادوگر غالب آگئے تو ہم ان کے پیچھے چل پڑیںگے۔حالانکہ مقابلہ میں اس بات کابھی امکان تھا کہ موسیٰ ؑ جیت جاتے اور جادوگر ہار جاتے مگر باوجود اس کے کہ دونوں پہلو ان کے سامنے موجود تھے اور وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اگرجادوگر غالب آگئے تو ہم جادوگروں کی بات مان لیںگے اور اگرموسیٰ ؑ غالب آیاتو ہم موسیٰ ؑکی بات مان لیں گے۔انہوں نے صرف اتناکہاکہ اگر جادوگر غالب آئے تو ہم ان کے پیچھے چل پڑیں گے اور اس طرح انہوں نے اپنے دلوں کے بغض اورعنادکا اظہار کردیا۔اور بتادیاکہ انہیں صداقت سے کوئی غرض نہیں۔وہ صرف فرعون کی خوشنودی حاصل کرناچاہتے ہیںاور اسی غرض کےلئے وہ اس مقابلہ کاانتظار کررہے ہیں۔حضر ت موسیٰ ؑ جیسے عظیم الشان نبی کے مقابلہ میں ان کاساحروں کو بلانایہ بھی بتاتاہے کہ انبیاء کی ابتدائی حالت کتنی کمزور ہوتی ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور آپ فرعون کو تبلیغ کرنے کے لئے گئے تھے مگر وہ انہیں اتناحقیر سمجھتاتھا کہ ان کے مقابلہ کے لئے اس نے مداریوں کو بلاکرکھڑاکردیا۔مگر کجا وہ حالت اورکجا یہ کہ آج حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کو دنیامیں اتنی طاقت حاصل ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں اس کی ناراضگی سے ڈرتی ہیں۔آج امریکہ جیسی طاقت ان کی پیٹھ پر ہے اور فلسطین میں ان کی حکومت قائم ہے لیکن اس وقت اتنی کمزوری کی حالت تھی کہ فرعون مداریوں کوبلاکر آپ کے مقابلہ پرکھڑاکردیتاہے۔آج اگر ہندویا عیسائی کسی مسلمان عالم کے مقابل پر بھی مداری کھڑا کردیں تو تمام لوگ شور مچانا شروع کردیں گے کہ ان کی ہتک کی گئی ہے۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نےاس خیال سے کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کو اسی راہ سے ہدایت دے دے مقابلہ سے انکار نہ کیا۔اور مداریوں کے مقابلہ میں بھی کھڑے ہونے کے لئے تیار ہوگئے۔لیکن اب اگر وہی فرعو ن دوبارہ زندہ کیاجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں اپنے آپ کو ایک بندر سے بھی زیاد ہ ذلیل سمجھے اور یہ دیکھ کرحیران ہوکہ اس کی نسل کاتو دنیامیں کہیں نشان بھی نظر نہیں آتا اور موسیٰ ؑکی قوم فلسطین پر حکومت کررہی ہے۔