تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 401

انکار کردیا اور پہلے تو ابوجہل کے پیچھے چلے جو فرعون کا ایک روحانی قائم مقام تھا اور اس کی ہر گندی اور فساد پھیلانے والی تعلیم کو انہوں نے قبول کرلیا اور رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم کو رد کردیا آپ کے بعد بھی یہی ہوا۔حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے تو صحابہؓ آپ پر ایمان لے آئے مگر سارے عرب نے بغاوت کردی اور انہوں نے وہی طریق اختیا رکیا جو ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے اختیار کیا تھا اور اس وقت کے فراعنہ کے پیچھے چل پڑے۔اس وقت کے فرعون مسیلمہ کذاب۔اسودعنسی اور سجاح ؔوغیرہ تھے جنہوں نے جھوٹے طورپر نبوت کا دعویٰ کردیا اور لوگ ان کے متّبع ہوگئے۔مگر جو رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا جانشین تھا اور لوگوں کے اندر اسلامی روح پیدا کرنے والا تھا اس کو چھوڑ دیا(البدایة و النھایة کتاب تاریخ الاسلام الاول من الحوادث۔۔۔۔سنة احدی عشرة من الھجرة )۔پھر آپؐ کے بعد حضرت عمرؓ کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا۔تب بھی یہی ہوا۔حضرت عمر ؓ اپنی وفات کے قریب حج کےلئے گئے تو بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ عمرؓ مر جائیں گے تو ہم فلاں کو خلیفہ بنائیں گے۔اور کسی کی بیعت نہیں کریں گے۔پھر اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے ماتحت حضرت عثمان ؓ خلیفہ ہوئے تو ان کے زمانہ میں بھی عبداللہ بن سبا جیسے لوگوں نے فتنا کھڑا کردیا۔یہ شخص بھی مصری تھا جیسا کہ فرعون مصری تھا اور لوگوں نے اس کی بات ماننی شروع کردی(تاریخ الطبری سنة خمس و ثلاثین ذکر مسیر من سار الی ذی خشب۔۔۔)۔ان کے بعد حضرت علیؓ خلیفہ ہوئے۔تب بھی لوگوں نے یہی طریق اختیار کیا پہلے تو حضرت علیؓ کو خلیفہ بننے پر مجبور کیا گیااور پھر ایک چھوٹا سا عذر کرکے کہ معاویہؓ سے صلح کیوں کی انہیں لوگوں نے جنہوں نے آپ کو خلافت کےلئے کھڑا کیا تھا بغاو ت کردی اور خوارج کے نام سے الگ ہوگئے۔اورانہوں نے دو صدیوں تک اسلام میں وہ تہلکہ مچایاکہ لوگوں کاا من بالکل برباد ہوگیا۔اسی طرح جب رسول کریم ﷺ کی بعثت پر ایک لمبا عرصہ گذرگیا اور امت محمدیہ میں مختلف اولیاء پیدا ہوئے۔تب بھی یہی ہوا کہ لوگوں نے ان کی نہ سنی بلکہ ان کے دشمنوں کی سنی جو اپنے وقت کے فرعون تھے اور ان کے پیچھے چل پڑے۔چنانچہ حضرت معین الدین صاحب چشتی ؒ ، حضرت قطب الدین صاحب بختیار کاکی ؒ،حضرت نظام الدین صاحب اولیاء ؒ اور حضرت خواجہ فریدالدین صاحب گنج شکر ؒ وغیرہ کی بھی مخالفت ہوئی۔حضرت سید احمد صاحب سرہندی ؒ آئے تو لوگوں نے جہانگیر کے کان بھرنے شروع کردیئے کہ یہ شخص حکومت کاباغی ہے اسے جلدی سنبھالیں ورنہ سخت فتنہ پیداہوجائے گا۔چنانچہ جہانگیر نے انہیں گوالیار کے قلعہ میں قید کردیا۔مگر پھر بعض لوگوں نے انہیں سمجھایاکہ یہ بزرگ انسان ہے اسے رہاکردو۔چنانچہ اس نے دانائی سے کام لے کرا نہیںرہاکردیا۔غرض جب سے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور خلفاء کاسلسلہ جاری ہے صداقت کی ہمیشہ مخالفت ہوتی چلی آئی ہے۔