تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 403
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا پس جب جادو گر آگئے تو انہوں نے فرعون سے کہاکہ اگر ہم غالب ہوئے تو کیا ہمیں کوئی انعام بھی ملے گا ؟ نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ۰۰۴۲قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ۠۰۰۴۳ (فرعون نے) کہا۔ہاں ،بلکہ اس صورت میں تم دربار میں مقربین میںجگہ پائو گے۔تفسیر۔جب جادوگرآ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب آئے تو کیا ہمیں کوئی انعام بھی ملے گا ؟اس آیت سے نبی اور غیر نبی کی طبیعت کا فرق معلوم ہوجاتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی باتیں جو اوپرگذر چکی ہیں ان سے صاف معلوم ہوتاہے کہ وہ اپنا اور ساری دنیا کو پالنے والا صرف خدا تعالیٰ کوقرار دیتے تھے کسی بندے پر اپنی نگاہ نہیں رکھتے تھے۔لیکن جو مداری فرعون نے ان کے مقابلہ کے لئے جمع کئے تھے ان کی نظریں اتنی نیچی اور ان کے حوصلے اتنے پست تھے کہ بادشاہ کے دربار میںآتے ہی بول پڑے کہ حضور اگر ہم جیت گئے تو کیا کوئی انعام بھی ملے گا یا نہیں۔یہی مضمون سورئہ اعراف میں بھی بیان کیاگیا ہے لیکن وہاں طر ز کلام بدل دی گئی ہے۔وہاں یہ الفا ظ آتے ہیں کہ اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ (الاعراف :۱۱۴) اگر ہم غالب آئے تو ہم کو ضرور اجر ملے گا۔مگر یہاں یہ کہاگیا ہے کہ اگر ہم غالب آئے تو کیا ہمیں کوئی انعام بھی ملے گا یانہیں۔گویابظاہر دونوں میں اختلاف دکھائی دیتاہے لیکن اگر غور کیاجائے تو ان دونوں آیتو ں میںکوئی حقیقی اختلاف نہیں۔بے شک یہاں سوالیہ فقرہ استعمال کیاگیاہے۔مگر اس سوالیہ فقرہ کے یہ معنےنہیں کہ ان کو اجر ملنے کے متعلق کوئی شبہ تھا بلکہ بعض دفعہ سوالیہ فقرہ توقع کے لئے بھی استعمال ہوتاہے۔یعنی مطلب تو یہ ہوتاہے کہ ضرور ملے گا مگر کہنے والاکہتا یہ ہے کہ کیاکچھ ملے گابھی ؟پس سورئہ اعرا ف اور سورئہ شعراء کی آیتوں میں کوئی تضاد نہیں۔مداریوں کے انعام کی خواہش ظاہر کرنے پر فرعون نے کہا۔ہاں ہاں انعام تو ملے گااور اس کے علاوہ تم میرے مقرب بھی ہوجائو گے۔