تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 400

نے یہ نہ سمجھا کہ یہ ایک کشف ہے جس میں اردگردکے لوگوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے بلکہ سمجھا کہ شاید یہ کوئی جادو گر ہے جو اپنے فن میں بڑا مشّاق ہے اور چونکہ جادو گر روحانی آدمی نہیں ہوتا اس لئے خیال کرلیا کہ ضرور اس جادو کے پیچھے کوئی غرض ہوگی اور وہ غرض اُس نے یہ نکالی کہ یہ ہم کو اپنے ملک سے نکالنا چاہتا ہے اس بیوقوف نے یہ نہ سوچا کہ تھوڑی ہی دیر پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام اُس سے کہہ چکے تھے کہ میں تیرے پا س اس لئے آیا ہوں کہ تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے تو جو شخص بنی اسرائیل کو مصر سے نکالنے کی خواہش کرتا ہے وہ قبطیوں کو جو اس کی مخالف قوم تھے مصر سے نکالنے کا کس طرح ارادہ کرسکتا ہے ؟ یہ دونو ں باتیں تو متضاد ہیں۔اگر بنی اسرائیل نکل جاتے تو قبطیوں کے پائوں اور بھی مضبوط ہوجاتے۔بنی اسرائیل کے نکالنے کی خواہش سے قبطیوں کے نکالنے کا ذکر کہاں سے نکلا؟ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے درباریوں کے ہوش کچھ ٹھکانے تھے انہوں نے سمجھ لیا کہ بادشاہ بے تکی باتیں کررہاہے موسیٰ ؑ کی باتوں سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی قوم کو نکالنا چاہتا ہے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ قبطیوں یعنی قوم فرعون کو نکالنا چاہتا ہے اس لئے انہوں نے کہا اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی ڈھیل دیجیئے۔اور اردگرد آدمی بھیجئے کہ وہ تمام بڑے بڑے ساحروں کو جمع کرلیں۔اگر یہ واقعہ میں ساحر ہے نبی نہیں تو یہ اُن سے ہار جائے گا۔اور اس کا دعویٰ باطل ثابت ہوجائے گا چنانچہ لوگوں کو اعلان کر کے جمع کیا گیا او ر انہیںکہہ دیا گیا کہ اگر ساحر غالب رہے تو ہم اُن کے پیچھے چل پڑیں گے۔یہ فقرہ بتارہا ہے کہ کفار کی ذہنیت کیسی پست ہوتی ہے۔چونکہ ان کے دل خدا تعالیٰ کی خشیت سے بالکل خالی ہوتے ہیںاس لئے وہ نبی کو ماننے کے لئے تو کسی صور ت میں بھی تیا ر نہیں ہوتے۔لیکن ان کا مخالف تھوڑی سی بھی کامیابی حاصل کرلے تواُس کے پیچھے چلنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں قومِ فرعون کی اسی افسوسناک ذہنیت کا قرآن کریم نے ایک اور مقام پر ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے کہ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۔اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ۔(ھود:۹۷،۹۸)یعنی ہم نے موسیٰ ؑکو ہر قسم کے نشانات اور روشن دلائل دے کر فرعون اور اس کی قوم کے بڑے بڑے عمائد کی طرف بھیجا لیکن بجائے اس کے کہ لوگ موسیٰ ؑ کی پیروی کرتے انہوں نے فرعون کی پیروی کی۔حالانکہ فرعون کی جو تعلیم تھی وہ صحیح راستہ دکھانے والی نہ تھی۔لیکن پھر بھی جو گمراہی کی طرف لے جانے والا تھا اس کی بات تو انہوں نے مان لی او ر جو ہدایت کی طرف لے جانے والا تھا اس کی بات نہ مانی۔بدقسمتی سے یہی طریق ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔جب رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوئے تو آپ نے جو تعلیم دی وہ بنی نوع انسان کو فلاح اور کامیابی کے مقام تک پہنچانے والی تھی مگر آپؐ کےوطن کے لوگوں نے ا س کا