تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 399

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌۙ۰۰۳۵يُّرِيْدُ اَنْ اِس پر فرعون نے اپنے اردگرد کے سرداروں سے کہا یہ تو کوئی بڑا واقف کار جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ۰۰۳۶قَالُوْۤا اپنے جادو کے ذریعہ سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔پس بتاؤ تم کیا مشورہ دیتے ہو۔انہوں نے کہا۔اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِي الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيْنَۙ۰۰۳۷يَاْتُوْكَ اس کو اور اس کے بھا ئی کو (کچھ دن) ڈھیل دے۔اور مختلف شہروں کی طرف آدمی بھجوا جو (قابل آدمیوں کو) بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيْمٍ۰۰۳۸فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيْقَاتِ يَوْمٍ جمع کرسکیں۔(اور)ہر بڑے جادو گر اور بڑے جاننے والے کو تیرے پاس لے آئیں۔اس پر سب جادوگر ایک مَّعْلُوْمٍۙ۰۰۳۹وَّ قِيْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ۰۰۴۰ معلوم دن پر جمع کئے گئے۔اور لوگوں سے کہاگیا۔کیا تم سب (ایک مقصد پر) اکٹھے ہونے کے لئے تیا رہو لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ۰۰۴۱ (کہ نہیں)۔تاکہ اگر جادو گر غالب ہوجائیں تو ہم اُن کے کہنے پر چلیں۔حلّ لُغَات۔اَرْجِہْ۔اَرْجَہَ الْاَمْرَکے معنے ہیں اَخَّرَہٗ عَنْ وَقْتِہٖ کسی معاملہ کو اس کے وقت سے پیچھے ہٹادیا (اقرب )اَرْجِہْ امر کاصیغہ ہے اس لئے اس کے معنے ہوں گے۔پیچھے ہٹادے۔یعنی ڈھیل دے دے۔میقا ت۔میقات مطلق وقت کوبھی کہتے ہیں۔اور اس وقت کو بھی کہتے ہیں جو کسی چیز کے لئے مقرر کیاجائے نیز اس کے معنے ہیں اَلْمَوْعِدُ الَّذِیْ جُعِلَ لَہُ وَقْتٌ وہ وعدہ جس کے لئے کوئی وقت مقرر کیاجائے۔وَقَدْ یُسْتَعَارُ لِلْمَوْضِعِ الَّذِیْ جُعِلَ وَقْتًالِلشَّیْ ءِاور کبھی اس جگہ کو بھی میقات کہہ دیتے ہیں جو کسی کام کے سر انجام دینے کے لئے مقرر کی جائے (اقرب) تفسیر۔جب فرعون نے موسوی عصا اور ید بیضاء کا نشان دیکھا توچونکہ وہ دینی علوم سے بے بہرہ تھا اُس