تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 397

مشورہ لیا کہ اگر ہم مدینہ میں بیٹھے رہے تو دشمن دلیر ہوجائے گا۔ہمیں آگے چلنا چاہیے تاکہ دشمن یہ نہ سمجھے کہ ہم اس سے ڈرتے ہیں۔چنانچہ آپؐ صحابہؓ کی ایک جماعت کو لے کرمدینہ سے باہر تشریف لے گئے اور بدر کے مقام پر پہنچے۔الٰہی اشارات سے آپ کو معلوم ہوچکاتھا کہ مکہ سے ایک لشکر آرہا ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ ہوگا۔لیکن آپؐ کو یہ اجازت نہیںتھی کہ آپؐ اس خبر کو ظاہر کریں۔نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ سے بہت کم لوگ آپ کے ساتھ گئے۔کیونکہ وہ اسے لڑائی نہیںسمجھتے تھے بلکہ صرف جرأت کے اظہار کا ایک موقعہ سمجھتے تھے۔بدر کے مقام کے قریب جا کر آپؐ نے مناسب سمجھا کہ اب یہ بات ظاہر کردی جائے چنانچہ آپؐ نے لوگوں کو جمع کیا۔اور فرمایا۔اے لوگو!مجھے خدا نے کہا ہے کہ دشمن کا لشکر قریب آگیا ہے اور بجائے اس کے کہ قافلہ سے لڑائی ہو شاید اسی سے لڑائی ہوجائے۔تمہاری اس بارہ میں کیا رائے ہے؟ مہاجرین یکے بعد دیگرے کھڑے ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے کہا۔یارسول اللہ !ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن انصار خاموش رہے۔وہ اس لئے خاموش رہے کہ جو فوج آرہی تھی اس میں مہاجرین کے بھائی بہنوئی۔سالے۔چچے اور تائے وغیرہ اور اسی طرح اور قریبی رشتہ دار تھے۔انہوں نے خیال کیا کہ اگر ہم نے کہا۔ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں تو مہاجرین سمجھیں گے کہ ہمیں ان کے رشتہ داروں سے لڑنے کا شوق ہے پس ان کی دلجوئی اور مہمانوں کی عزت کی وجہ سے سب انصار خاموش رہے۔مہاجرین یکے بعد دیگرے اٹھتے اور اٹھ اٹھ کر قربانی کی رغبت ایثار اور فدائیت کے جوش کا اظہار کرتے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر صحابیؓکی تقریر کے بعد فرماتے۔کہ اے لوگو!مجھے مشورہ دو۔جب متواترآپ ؐنے یہ بات دہرائی تو ایک انصاری اٹھے اور انہوں نے کہا۔یارسول اللہ !آپ کو مشورہ تو دیا جارہاہے۔لیکن باوجود مشورہ پیش کئے جانے کے آپؐ یہی فرماتے ہیں کہ اے لوگو مشورہ دو۔شاید آپؐ کی مراد لوگوں سے ہم انصار ہیں کہ ہم بھی مشورہ دیں۔ورنہ مشورہ تو آپؐ کو مل ہی رہا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا۔ٹھیک ہے۔میری یہی مراد تھی اس صحابی نے کہا۔یارسول اللہ ! ہم نے آپؐ سے مکہ میں ایک معاہدہ کیا تھا اور اقرار کیا تھا کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ آور ہواتو ہم ہر طرح اس کا مقابلہ کریں گے لیکن مدینہ سے باہر اگر لڑائی ہوئی تو ہم اس معاہدہ کے پابند نہیں ہوںگے۔کیونکہ ہمارے اندراتنی طاقت نہیںکہ سارے عرب سے لڑ سکیں۔شاید آپؐ جو باربار ہم سےمشورہ چاہتے ہیںتو آپؐ کا اشارہ اس معاہد ہ کی طرف ہے۔آپ ؐنے فرمایا۔ٹھیک ہے اس انصاری نے یہ بات سن کر بڑے جوش سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ!جب آپؐ سے ہم نے مکہ میں وہ معاہد ہ کیا تھااس وقت تک آپؐ کا مقام ہم پر پوری طرح روشن نہیں ہوا تھا۔صرف ایک محدود روشنی ہمیں ملی تھی اور ہم شرطیں باندھنے میںکوئی