تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 396

کیا ہوا ہے۔اس لئے وہ خود ہی اس وعدہ کو پورا کرے گا اور یہ ملک ہمارے قبضہ میں دے دے گا۔اگر ہم نے ہی اس ملک کو فتح کرنا تھا تو پھر وعدے کا کیا فائدہ۔چنانچہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا کہ فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ(المائدۃ :۲۵) کہ اے موسیٰ! تو اور تیرا رب دونوں جائو او ردشمنوں سے لڑو۔ہم تو یہیں بیٹھیں گے جب تم ملک فتح کرکے ہمیں دے دو گے تو ہم اس میں داخل ہوجائیں گے۔اللہ تعالیٰ کو اس قوم کی یہ بات سخت ناگوار گذری اور اس نے کہا کہ اب چالیس سال تک تم اس ملک میں داخل نہیں ہوسکتے چالیس سال تک تم جنگلوں میں بھٹکتے پھرو۔پھر اللہ تعالیٰ تمہاری نئی نسل کو اس امر کی توفیق دے گا کہ وہ اپنی جانیں قربان کرکے اس ملک میں داخل ہوں۔اور خد اتعالیٰ کے انعامات کے مورد ہوں۔غرض موسیٰ ؑکو وہ قوم ملی جس نے خدا تعالیٰ کا اتنا بڑا نشان دیکھنے کے باوجود کہ اسے فرعون کی غلامی سے آزادی ملی اسے اور اس کی آئندہ نسلوں کو فرعونیوں کے لئے اینٹیں بنانے اور لکڑیاں کاٹنے اور ہر ذلیل سے ذلیل کام کرنے سے نجات ملی پھر بھی موسیٰ ؑکا حکم ماننے سے انکار کردیا۔اور جب انہیں کہا گیا کہ اٹھو اور اس عظیم الشان ملک پر قبضہ کرلو جس پر عاد قوم حکمران ہے تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔تو اور تیرا رب دونوں جائو اور دشمنوں سے لڑتے پھرو۔جب دشمن مرگیا اور ہمیں اطمینان ہوگیا کہ اب ہماری جانوں کو کوئی خطرہ پیش نہیں آئے گا تو ہم اس ملک کی حکومت سنبھال لیں گے لیکن محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ صحابہؓ عطا فرمائے جنہوںنے موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح کسی ایک مقام پر بھی یہ نہیںکہا کہ ہم اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ وہ آپؐ کے دائیں بھی لڑے اور بائیں بھی لڑے۔اور آگے بھی لڑے اور پیچھے بھی لڑے۔اور انہوں نے ہر نازک سے نازک مقام پر اپنی فدائیت اور جاں نثاری کو ثابت کردیا۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ ابو سفیان ایک تجارتی قافلہ کےساتھ شام کی طرف سے آرہا ہے اور راستہ میں تمام قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا چلا آتاہے۔قافلہ کا راستہ بھی مدینہ کے پاس سے گذرتا تھا اور گو ایسا قریب تو نہیں تھا مگر مکہ کی نسبت مدینہ سے زیادہ قریب تھا۔تمام قبائل جو مدینہ کے گرد رہتے تھے وہ شام سے آنے والے قافلہ سے ملتے اور تجارتی چیزوں کا آپس میں تبادلہ کرتے تھے۔اس لئے شام سے جو قافلہ آتا اس کے تعلقات مدینہ کے تمام قبائل سے ہوجاتے تھے اور چونکہ اس قافلہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو اکساتے اور اشتعال دلاتے تھے اس لئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ علم ہوا کہ ابو سفیان قافلہ کو لےکر مدینہ کے پاس سےگذررہا ہے اوریہ بھی معلوم ہواکہ مکہ والے بھی اس خیال سے کہ قافلہ پر مدینہ والے حملہ نہ کریں کچھ لشکر لے کرنکلے ہیں تو آپؐ نے اپنے دوستوں سے