تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 398

حرج نہیں سمجھتے تھے لیکن یارسول اللہ ! اس کے بعد حقیقت اسلام ہم پر پوری طرح کھل چکی ہے اور آپ کی صداقت کو ہم نے پوری طرح پرکھ لیا ہے۔اس صداقت کے روشن ہوجانے اور پرکھنے کے بعد کیا اب بھی کوئی شرط باقی رہ سکتی ہے۔اب تو شرطوں کا سوال ہی نہیں یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ تم اپنے گھوڑوں اور سواریوں کو سمندر میںڈال دو تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے اور یارسول اللہ! اگر یہاں جنگ ہوئی تو دشمن گو طاقت ور ہے اور تعدا د میں بہت زیادہ ہے۔مگر ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے۔آگے بھی لڑیں گے اورپیچھے بھی لڑیں گے۔اورخدا کی قسم ! دشمن آپ ؐ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔(بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالیٰ اذ تستغیثون ربکم۔۔۔) یہ وہ نمونہ ہے جو صحابہؓ نے دکھایا اور پھر منہ کی باتوں تک ہی انہوں نے اپنے جذبہ اخلاص کو محدود نہیںرکھا بلکہ عملی رنگ میں بھی وہ رات اور دن اسلام کے لئے قربانیاں کرتے رہے اور انہوں نے ایسی جاںنثاری کا نمونہ دکھایا کہ سر ولیم میور ’’لائف آف محمد ‘‘میں غزوئہ احزاب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس جنگ میں کفارکا اتنا بڑا لشکر جمع ہوا تھا کہ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کا شکست کھا جانا بالکل یقینی امر تھا۔مگر اتنے بڑے لشکر کے باوجود کفار کوجو کامیابی حاصل نہ ہوئی تو اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ کفارسے ایک سیاسی غلطی ہوئی۔اور وہ یہ کہ جب وہ خندق پار کر کے آگے آ جاتے تو وہ اپنی بیوقوفی سے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیتے تھے مگر محمد رسول اللہ کے صحابہؓ آپ پر اتنے فدا تھے کہ جب وہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا منشاء یہ ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کریںتو مرد عورتیں اور بچے پاگلوں کی طرح دشمن کے لشکر کے سامنے آجاتے تھے اور وہ شکست کھانے پر مجبور ہوجاتا تھا اگر وہ یہ بیوقوفی نہ کرتے کہ محمدؐرسول اللہ کے خیمہ کی طرف رجوع کرتے تو ممکن ہے ان کو احزاب میں فتح ہوجاتی۔غرض صحابہ نے اپنے عشق کا جو نمونہ دکھایا موسیٰ ؑ کی جماعت کا نمونہ اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیںرکھتا۔پس محمد ؐرسول اللہ کا ید بیضاء موسیٰ ؑکے ید بیضاء سے افضل ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصا قرآنی موسیٰ ؑکے عصا پر ہر لحاظ سے فضیلت رکھتا ہے۔