تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 395

ہوئے فرمایا کہ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا (النساء :۱۷۵)یعنی اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک کھلی دلیل آ چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک نہایت روشن نور نازل کیا ہے۔اسی طرح فرمایا کہ قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنْ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ۔(المائدۃ : ۱۶)تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور روشن کتا ب آچکی ہے۔پس موسیٰ کے تو صرف ایک ہاتھ سے نورانی شعاعیں نکلتی دکھائی دی تھیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے سرتاپانور کا ایک پیکر بنایا۔اور یہ فرق اس لئے تھا کہ موسیٰ ؑنے صرف بنی اسرائیل کی اصلاح کا کام سرانجام دینا تھا مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا۔اس لئے موسیٰ ؑکا تو صرف ایک ہاتھ نور کی شکل میں دکھائی دیا۔مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوخدا تعالیٰ نے سر سے پیر تک نور ہی نور قرار دے دیا۔پھر موسیٰ ؑکا ہاتھ بیشک نورانی دکھائی دیا مگر بہرحال وہ موسیٰ ؑکاہی ہاتھ تھا مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو خدا تعالیٰ نے اپنا ہاتھ قرار دیا اور فرمایا کہ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ (الفتح : ۱۱) یعنی وہ لوگ جو تیر ی بیعت کرتے ہیں وہ تیری بیعت نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کرتے ہیں اوران کے ہاتھ پر تیرا ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کاہاتھ ہوتاہے۔بظاہر انہیں وہ ہاتھ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دکھائی دیتا ہے مگر حقیقتاً وہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتاہے اسی طرح غزوہ بدر میںجب آپ ؐ نے کفار کی طرف کنکروں کی مُٹھی پھینکی اور اس کے ساتھ ایک طوفانِ باد اٹھا جس نے کفا ر کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔تو اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (الانفال :۱۸)اے محمدرسول اللہ !جب تو نے کفار کی طرف کنکر پھینکے تھے تو تونے نہیں بلکہ خوداللہ تعالیٰ نے پھینکے تھے۔پس موسیٰ ؑکا ہاتھ خواہ کس قدر نورانی نظر آیا۔بہرحال وہ موسیٰ ؑکا ہی ہاتھ تھا مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو خدا تعالیٰ نے اپنا ہاتھ قرار دے دیا۔پھر اگر ہاتھ کی سفید ی سے یہ اشارہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قوم کو روحانی لحاط سے بڑی پاکیزگی عطافرمائے گا۔اور وہ دین کے لئے بڑی قربانیاں کرنے والے ہوں گے تو اس پہلو کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پرنمایاں فضیلت عطافرمائی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اُسے کنعان کا ملک بنا دیا جائے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو ساتھ لے کرمصر سے چل پڑے اور جب وہ ملک سامنے آگیا تو آپ نے اپنی قوم سے کہا کہ جائو اورلڑائی کرکے اس ملک پر قبضہ کرلو۔حضر ت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے غلطی سے یہ خیال کرلیا کہ خدا تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں دینے کا وعدہ