تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 394

مطالب پر گہری نگاہ ڈالی تو ہمیں نظر آیا کہ قرآن کریم موسیٰ ؑکے عصا سے لاکھوں گُنا بڑھ کر ہے کیونکہ موسیٰ ؑکے عصا سے تو صرف ساحروں کا بھانڈا پھوٹا اور اُن کے سانپ فنا ہوئے مگر قرآن کریم نہ صرف دشمنانِ اسلام کی سرکوبی کے لئے ہروقت ایک چوکس اور ہوشیار جرنیل کی طرح اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے بلکہ اُس کا ایک ایک لفظ مُردوں کو زندہ کرنے والا اور اُن کے اندر زندگی کی تازہ روح پھونکنے والا ہے گویا موسوی عصا نے صرف اتنا کام کیا کہ دشمن کا سرپاش پاش کردیا۔اور اُسے روحانی لحاظ سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا قرآن صرف دشمنوں کو ہلاک ہی نہیںکرتا بلکہ اُن کو ازسر نو زندہ کرکے خدا تعالیٰ کا مقرب بھی بنا دیتا ہے۔اور وہ صرف دفع شر کی ہی خاصیت اپنے اندر نہیں رکھتا بلکہ ایصالِ خیر کا پہلو بھی اس میں بدرجہ کمال پایا جاتا ہے اور وہ مُردوں کو زندہ کرنے کی اپنے اندر طاقت رکھتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اسی خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ(الانفال : ۲۵)یعنی اے مومنو! جب خدا اور اس کا رسول تمہیں زندہ کرنے کے لئے آواز دے تو تم اُس کی آواز پر فوراًلبیک کہا کرو۔یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآن کریم مُردوں کو زندہ کرنے کے لئے آیا ہے بے شک اُس کی تعلیم پر عمل کرکے اندھے آنکھیں پا سکتے ہیں۔بہرے شنوا ہوسکتے ہیں۔لنگڑے لولے چل پھر سکتے ہیں۔مگر اس سے بھی بڑھ کر قرآن کریم میںیہ خوبی ہے کہ اس کی تعلیم پر عمل کر کے مُردے بھی زندہ ہوسکتے ہیں اور اُن میں بھی ایک نئی روحانی حیات پیدا ہوجاتی ہے۔یہی روح تھی جس نے عرب کی سرزمین میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔اور وہ لوگ جو اصنام واجماد کے آگے سربسجود رہا کرتے تھے اور ہرقسم کے فواحش کے ارتکاب میں ایک لذت اور سرور محسوس کیا کرتے تھے خدائے واحد کے ایسے پرستار ہوئے کہ انہوں نے بھیڑ بکریوں کی طرح اُس کی راہ میں اپنے سر کٹوادیئے اور خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھتے چلے گئے۔پس موسیٰ ؑ کا عصا اس عظیم الشان انعام کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوعطا کیا گیا۔اورجو آج بھی دشمنانِ دین کےلئے ایک برہانِ قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔دوسراؔ نشان جو فرعون کے دربا ر میں دکھایا گیا وہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہاتھ انہیں بالکل نورانی اور سفید دکھائی دیا یہ نشان بھی بے شک بہت بڑا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقدس اور ان کی اعلیٰ شان کو ظاہر کرتا ہے۔اوران برکات پر روشنی ڈالتا ہے جن کا ان کے ہاتھ پر ظہور مقدر تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پہلو میں بھی ایک نمایا ں فضیلت عطا فرمائی۔چنانچہ موسیٰ ؑکا تو صرف ہاتھ سفید دکھائی دیا مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے سرتاپا ایک نورِ مجسم قرار دیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خوشخبری دیتے