تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 393

جیسے ایک بہت بڑا امیر جو اپنے خاندان کی ضرورت کے مطابق دکان سے مختلف قسم کے کپڑے ایک بڑی مقدار میں خریدتا ہے۔تم اس امیر شخص کی گھٹڑی میں کپڑے کی بہت سی اقسام دیکھو گے تم اس میں لٹھّے کے تھان دیکھو گے۔تم زربفت و کمخواب دیکھو گے۔تم کوٹوں کے کپڑے دیکھو گے۔لیکن پھر بھی کپڑے کی بیسیوں اقسام ایسی رہ جائیں گی جو تمہیں اس گھٹڑی میں نظر نہیں آئیں گی حالانکہ وہ ہزاروں روپے کا کپڑا خرید کر لایا ہوگا۔اسی طرح جو شخص قرآن کریم کا مطالعہ کرتا ہے۔اس کا علم خواہ کتنا تھوڑا ہو وہ اگر قرآن کریم کےساتھ موانست رکھتا ہے تو اس کا دماغ اپنی ضرورت کے مطابق قرآ ن کریم سے چیزیں لے لیتا ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی مثال دنیاکی سی ہے جس کے جنگلوں میں تم جاتے ہو اور اپنی ضرورت کے مطابق کوئی نہ کوئی درخت کاٹ لاتے ہو۔لیکن اس کے اندر پائی جانے والی دھاتوں کی اصلیت تمہیں معلوم نہیں ہوتی۔اسی طرح قرآنی علوم کو سمجھنے والے افراد قرآن کے سمجھنے میں دوسروں کے ممد تو ہوسکتے ہیں۔لیکن قرآن کریم کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔قرآن کریم کا قائم مقام قرآن کریم ہی ہے۔بڑے سےبڑا مفسر بلکہ ایک نبی بھی اس کا مؤید ،معین اور ناصر تو ہے اس کا قائم مقام نہیں۔حتی کہ وہ وجود جو خود قرآن تھا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی اس کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔وہ زمین جس میں یورینیم پائی جاتی ہے جس سے ایٹم بنتا ہے وہ ساری چیزوں کو نہیںجانتی۔وہ ماں بھی بچے کو پوری طرح نہیں جانتی جس نے نو ماہ تک بچے کو پیٹ میں رکھا ہو۔قرآن قرآ ن ہی ہے۔اور انسان انسان ہی ہے۔ہر موقعہ۔ہر ضرورت ،ہر جذبہ اور ہر فکر کی تبدیلی پر قرآن اپنے پڑھنے والے کے لئے ایک نیا روپ بدلتا ہے۔وہ ہر متلاشی کے لئے نیا روپ بدلتا ہے۔وہ ہر شخص کے لئے نیا دروازہ کھولتا ہے جو اسے حاصل کرنا چاہتاہے۔پس قرآن کریم کے ساتھ محبت اورپیار کرو اور اس پر غور اور فکر کی عادت ڈالو۔اس کے بغیر نہ خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوسکتی ہے اورنہ صحیح اسلامی روح پیدا ہوسکتی ہے۔بانی سلسلہ احمدیہؑ نے قرآن کریم کی اسی فضیلت کا اپنے ایک شعر میں اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ ؎ پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ ؑکا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا (براہین احمدیہ حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۰۵) یعنی پہلے ہم نے یہ سمجھا کہ جس طرح موسیٰ ؑکا عصا ساحروں کے سانپ نگل گیا تھا۔اسی طرح قرآن کریم بھی اپنے دلائل وبراہین اور معجزات ونشانات کے ذریعہ سے دشمنانِ اسلام کے پھیلائے ہوئے جالوں کو تارتار کر دیتا ہے اور اس لحاظ سے اسے موسیٰ ؑکے عصا کےساتھ مشابہت ہے لیکن جب ہم نےزیادہ غور کیا اور قرآن کریم کے