تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 392
کہ میں اس کے ذریعہ سے تمہیں بھی فائدہ پہنچائوں اور وہ تمام لوگ جن کے کانوں تک اس کی آواز پہنچے ان کو بھی فائدہ پہنچائوں۔ایک طرف قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہےکہ اس میں ہر قسم کے مضامین بیان کئے گئے ہیں اور ہر قسم کے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور دوسری طرف اس نے یہ کہا ہے کہ جس کے ہاتھ میں بھی یہ قرآ ن ہے اس کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ یہ اسی لئے نازل کیا گیا ہے کہ وہ سب لوگ جن کے کانوں تک اس کی آواز پہنچے اُن کو فائدہ پہنچائے۔پس قرآن کریم ایک بہت بڑا ہتھیار ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیاگیا۔موسیٰ ؑکا عصاتو صرف تھوڑی دیر کےلئے فرعونیوں کو سانپ کی شکل میں نظر آیا تھا جس سے کچھ دیر کے لئے ان کے جسموںپر لرزہ بھی طاری ہوا مگر قرآن وہ کتاب ہے جو آج تک انذار کا کام کررہی ہےاور پھر اس کا انذار کسی ایک قوم یا ایک ملک سے مخصوص نہیں بلکہ دنیا کی تمام اقوام اور دنیا کے تمام ممالک اس کے دائرہ انذارمیں شامل ہیں اور پھر اس کے انذار کی وسعت زمانوں کی قیود سے بھی بالا ہے۔قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہیں آسکتا جس میں قرآن دشمنانِ اسلام کے لئے ایک نذیر مبین کا کا م نہ کررہا ہویا اس کے انذاری نشانات ان کی شان و شوکت کو مٹا کر اسلام کو غلبہ دینے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔پھرموسیٰ ؑکا عصا صرف موسیٰ ؑکے ہاتھ میں ہی نشان دکھا سکتا تھا مگر قرآن جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے ایک زندہ کتاب تھی اسی طرح آج سچے اورمخلص مومن کےلئے بھی وہ ایک زندہ کتاب ہے۔اور جس طرح وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حقائق و معارف کی کان میں سے لاتعداد ہیرے اور جواہر پیش کرتی تھی اسی طرح وہ امت محمدیہ کے ہر مخلص فرد کو اس کے ایمان اور اخلاص کے مطابق اپنے معارف سے حصہ دیتی او راپنے علوم سے بہرہ ورکرتی ہے۔کیونکہ اس کا نزول اس ہستی کی طرف سے ہے جسے غیب کا علم ہے اور جو انسان کے خیالات اور جذبات اور افکار کو جانتی ہے۔دنیا میں کوئی انسان خواہ اس کا تجربہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو تمام افراد کے تما م افکار تمام جذبات اور تمام خیالات کا واقف نہیں ہوسکتا تمام انسانوں کے جذبات افکار اور ان کے خیالات کو وہی ذات سمجھ سکتی ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور وہ قرآن کریم میںبولتی ہے اور ہر شخص اپنی ضرورت کی چیز اس میں سے لے جاتا ہے۔دنیا میں کسی کو کھدر کی ضرورت ہوتی ہے کسی کو لٹھے کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی کوزربفت وکمخواب کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی کو سرد یا گرم سوٹ یا ریشمی کپڑوں کی مختلف اقسام کی ضرورت ہوتی ہے۔جب کوئی شخص اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کپڑے خرید کر دکان سے باہر نکلتا ہے تو اس کی گھٹڑی میںسے ہر قسم کے کپڑے نہیں مل سکتے ہرقسم کے کپڑے صرف دکان سے ہی مل سکتے ہیںجوشہر یا گائوںکے لوگوںکی ضروریات کے لئے قائم ہوتی ہے۔ایک عالم کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک کپڑا خریدنے والا۔اور ایک بہت بڑے عالم کی مثال ایسی ہوتی ہے