تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 379
آپ نے جو الہامات لکھے ہیں ان میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔آپ نے فرمایا۔ٹھیک ہے مجھے یہ الہام ہو اتھا۔مگر لکھنا یاد نہیں رہا پھر آپ اندر سے اپنے الہامات کی کاپی اٹھا لائے اور مجھے فرمایا کہ دیکھو اس میں میں نے یہ الہام درج کیا ہوا ہے۔اس کے بعد آپ نے اس الہام کو بھی اخبار میں شائع کرو ا دیا۔اب دیکھو ادھر ایک الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوتا ہے اور اُدھر اللہ تعالیٰ مجھے بھی بتا دیتا ہے کہ ان الفاظ میں آپ پر الہام نازل ہوا ہے اور صبح معلوم ہوتا ہے کہ بات بالکل درست تھی۔غرض رئویا و کشوف میں بعض دفعہ ساتھ رہنے والے بھی شریک کرلیئے جاتے ہیں۔اور یہ چیز ایسی قطعی اور یقینی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ملکہ وکٹوریہ کو تبلیغ اسلام کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ اگر کوئی طالب حق نیت کی صفائی سے ایک مدت تک میرے پاس رہے اوروہ حضرت مسیح ؑ کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے۔ان سے باتیں بھی کرسکتا ہے اور ان کی نسبت اُن سے گواہی بھی لے سکتا ہے۔کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔‘‘ (تحفہ قیصر یہ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۷۳) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سونٹے کا سانپ بن کر نظر آنا بھی ایسے ہی کشوف میں سے تھا جس کا دائرہ وسیع کردیا گیا اور فرعون اور اس کے ساتھیوں نے مو سٰی کا عصا ایک بہت بڑے اژدہا کی صورت میں دیکھا جسے دیکھ کر وہ ڈرے اور ان کے دلوں پر لرزہ طاری ہو گیا۔یہ نظارہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک غریب شخص جس کا ابو جہل کے ذمہ کچھ قرض تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ابو جہل نے میر ا اتنا روپیہ دینا ہے مگر باربار تقاضوں کے باوجود وہ میرا روپیہ مجھے نہیں دیتا۔آپؐ اس بارہ میں میری مدد کریں۔اور مجھے اس سے روپیہ دلوادیں۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعثت سے پہلے ایک ایسی مجلس میں شریک رہ چکے تھے جس کا ہر ممبر یہ حلف اٹھاتا تھا کہ میں مظلوموں کی مدد کروں گا۔اور حقدار کو اس کا حق دلانے کی کوشش کروں گا۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوراً اس کے ساتھ ابو جہل کے مکان کی طرف چل پڑے حالانکہ اس زمانہ میں مکہ میں آپ ؐ کی شدید مخالفت تھی اور گلی کوچوں میں آپ ؐ کا اکیلے پھرنا خطرہ سے خالی نہیں تھا مگر آپ ؐ اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑے اور ابوجہل کا دروازہ کھٹکھٹایا۔وہ باہر آیا۔تو آپ نے فرمایا۔تم نے اس شخص کا کوئی روپیہ دینا ہے۔اس نے کہا۔