تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 378
کہ سینکڑوں میل دور رہنے والے بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔اسی طرح امت محمدیہ میں جو اولیاء گذرے ہیں ان میں سے ایک بزرگ کے متعلق لکھا کہ وہ ہر روز تہجد کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے ایک رات جب کہ وہ دعا مانگ رہے تھے ان کا ایک مرید بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔دعا کرنے کے بعد ان کو ایک الہام ہوا جو اس مرید نے بھی سن لیا مگر ادب کی وجہ سے وہ خاموش رہا دوسرے دن وہ پھر تہجد کے لئے اٹھے اور انہوں نے دعائیں کیں تو پھر ان پر وہی الہام نازل ہوا جو پہلے دن نازل ہوا تھا اور یہ الہام بھی ان کے مرید نے سن لیا مگر پھر بھی وہ خاموش رہا تیسرے دن وہ دعا کے لئے اٹھے اور نماز سے فارغ ہوئے تو پھر انہیں وہی الہام ہو ا جو ان کے مرید نے بھی سن لیا اور وہ کہنے لگا حضور میں برابرتین دن سے یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہر روز آپ پر یہ الہام نازل ہوتاہے کہ میں تمہاری دعا قبول نہیںکروں گا مگر آپ برابر دعاکئے جاتے ہیں آپ کو تو چاہیے کہ اب دعائیں کرنا چھوڑ دیں جب خدا تعالیٰ قبول کرنا نہیں چاہتا تو اتنا زور دینے کا کیا فائدہ ؟ انہوں نے کہا تو تو صرف تین دن یہ الہام سن کر گھبرا گیا ہے مجھے تو تیس سال سے برابر یہ الہام ہورہا ہے مگر میں اللہ تعالیٰ سے مایو س نہیں ہو ا کیوں کہ بندے کا کام دعا مانگتے چلے جانا ہے مایوس ہونا مومن کاکام نہیں لکھا ہے کہ دوسرے ہی دن اللہ تعالیٰ نے ان پر الہام نازل کیا کہ تم نے تیس سال کے عرصہ میںجس قدر بھی دعائیں کی تھیں وہ سب میں نے قبو ل کرلی ہیں انہو ں نے اپنے اس مرید کو بلایا اور کہا۔دیکھو اگر میں تمہاری بات مان کر دعائیں کرنا ترک کردیتا تو میں اللہ تعالیٰ کے کتنے بڑے فضلوں سے محروم ہو جاتا۔اوراس وقت محروم ہوتا جب کہ میںکامیابی کے دروازے پر پہنچ چکا تھا۔اب دیکھو ایک بزرگ کو الہام ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کے دائرہ کو اتنا وسیع کردیتا ہے کہ ان کا ایک مرید بھی الہام کی آواز سن لیتا ہے اور برابر تین دن تک سنتا رہتا ہے۔موجودہ زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سرخی کے چھینٹوں والا کشف دکھایا گیا۔تو سرخی کے چھینٹے نہ صرف آپ کی قمیص پر پائے گئے بلکہ ایک قطرہ میاں عبداللہ صاحب سنوریؓکی ٹوپی پر بھی آگرا۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس نشان میں ان کو بھی شریک کرلیا(چشمہ ء معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۳۲،۴۳۳)۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میںمجھے بتایا گیا کہ آج رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ الہام نازل ہوا ہے کہ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔صبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اشاعت کےلئے اپنے الہامات لکھ کر دیئے تواتفاقاً آپ کو یہ الہام لکھنا یاد نہ رہا۔میں نےحضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے کہا کہ مجھے تو آج رات ایک فرشتہ نے بتایا تھا کہ آپ کو یہ الہام ہوا ہے کہ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً مگر