تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 373
دلیل پیش کرو۔اس پر موسٰی نے اپنا سونٹا زمین پر ڈال دیا تو لوگوں کو اچانک یہ نظر آنے لگا کہ وہ ایک اژدھا ہے جو صاف صاف نظر آرہا ہے۔اس کے بعد موسٰی نے اپنے پہلو سے اپنا ہاتھ نکالا۔تو وہ دیکھنے والوں کو چمکتا ہوا نظر آنے لگا۔اس جگہ یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سونٹے کا سانپ بن جانا اور آپ کے ہاتھ کا لوگوں کو چمکتا ہوا نظر آنا درحقیقت ایک کشفی نظارہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو بھی دکھا دیا۔اور رئویاو کشوف کے متعلق یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے جس کی انبیاء اور اولیاء کی تاریخ میں کثر ت سے مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بعض دفعہ کشفی نظارے ایسے وسیع کردیئے جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کوبھی نظر آنے لگ جاتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نہ میں انشقاقِ قمر کا جو معجزہ ظاہر ہو اوہ بھی ایک کشفی نظارہ تھا جو وسیع کردیا گیا۔اور نہ صرف مکہ کے کچھ لوگوں کو نظرآیا(بخاری کتاب التفسیر باب قولہ وانشق القمر )بلکہ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے ہندوستان کے ایک راجہ کو بھی نظر آگیا اور وہ مسلمان ہوگیا۔(تاریخ فرشتہ اُردوجلد ۲صفحہ ۴۹۱مقالہ ۱۱) مفسرین نے چونکہ اس حقیقت کو نہیں سمجھا اس لئے ان کا ذہن اس طرف چلا گیا کہ چاند واقعہ میں جسمانی طور پر پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا تھا حالانکہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سونٹا تھا تو سونٹا ہی مگر فرعون اور اس کے درباریوں کو وہ ایک اژدہا کی شکل میںدکھایا گیا۔اسی طرح چاند تو اپنی جگہ پر ہی رہا تھا مگر کشف میں یہ دکھایا گیا کہ وہ پھٹ گیا ہے۔اور جس طرح ہر خواب اور کشف تعبیر طلب ہوتا ہے اسی طرح اس کشف کی بھی یہ تعبیر تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو تغیر رونماہونے والا ہے اُس کا وقت اب آچکا ہے اور کفا رکی حکومت عرب سے مٹ جائے گی۔چنانچہ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُوَانْشَقَّ الْقَمَرُ ( القمر:۲) یعنی عرب کی تباہی قریب آگئی ہے اور اُس کا ثبوت یہ ہے کہ چاند پھٹ گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ساعت کے قریب آنے اور چاند کے پھٹنے میںتعلق تھا۔مگر ظاہری طور پر چاند کے پھٹنے کا ساعت سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔اگر ساعت سے اس کا تعلق ہوتا تو چاہیے تھا کہ قیامت بھی آجاتی مگر چاند کے پھٹنے پر تو تیرہ سو سال کا عرصہ گذرچکا ہے اور قیامت ابھی تک آئی نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ساعت قریب آگئی ہے اورا س کی علامت یہ ہے کہ چاند پھٹ گیا ہے پس معلوم ہوا کہ شق کے جو معنے عام طور پرکئے جاتے ہیںوہ بھی غلط ہیں اور ساعت کے جو معنے لئے جاتے ہیں وہ بھی درست نہیں۔دراصل قرآن کریم میں انبیاء کی بعثت اوران کی ترقی اور غلبہ کے زمانہ اور ان کے مخالفین کی تباہی کے زمانہ کو ساعت کہاجاتا ہے۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ محمدرسول اللہ