تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 372
لِلنّٰظِرِيْنَؒ۰۰۳۴ عصازمین پر دھر دیا تو اچانک (اہلِ فرعون نے دیکھاکہ ) وہ ایک صاف صا ف نظر آنے والا اژدہاہے اور اُس نے اپنا ہاتھ (اپنی بغل سے ) نکالا تو سب دیکھنے والوں نے اچانک دیکھا کہ وہ بالکل سفید ہے۔حلّ لُغَات۔ثُعْبَانٌ۔ثُعْبَانٌ:ضَرْبٌ مِّنَ الْحَیَّاتِ طِوَالٌ۔یعنی ثُعْبَانٌ سانپوں کی اقسام میں سے ایک قسم کا سانپ ہوتا ہے جو خاصا لمبا ہوتا ہے۔(اقرب) نَزَعَ۔نَزَعَ یَدَہٗ کے معنے ہیں اَخْرَجَھَا مِنْ جَیْبِہٖ ہاتھ کو اپنے گریبان سے نکالا (اقرب) تفسیر۔فرعون نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مجنون کہا تو آپ سمجھ گئے کہ اب یہ مجھے اصل موضوع سے دوسری طرف پھیرنا چاہتاہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی ربوبیّت عالمین پر جو گفتگو شروع ہے وہ ذاتیا ت میں الجھ کر رہ جائے اور میں اس مضمون کو ترک کرکے اس امر پر بحث شروع کردوں کہ مجھے مجنون کیوں کہاگیا ہے۔میرے اندر تو کوئی جنون والی بات نہیں پائی جاتی۔پس آپ نے مناسب سمجھا کہ اُس کی اس گالی کا اُسے کوئی جواب نہ دیںاور اصل موضوع کو جاری رکھیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔رب العالمین خدا وہ ہے جو مشرق کا بھی رب ہے اور مغرب کا بھی رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کا بھی رب ہے۔یعنی تُو تو صرف مصریوں کا رب ہونے کا دعویدار ہے حالانکہ کہ مصر کی دنیا کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا ہے۔مشرق ومغرب میں سینکڑوں ملک مصر سے کئی کئی گُنا بڑے موجود ہیں اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ فرعون مصر والوں کو پال رہا ہے تو وہ لوگ جو مشرق اور مغرب اور ان کے درمیان رہتے ہیں ان کو کون پالتا ہے بہر حال جو ساری دنیا کو پالتا ہے وہی رب العالمین ہے۔فرعون رب العالمین نہیں ہوسکتا۔کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو مصریوں اور قبطیوں کا خدا کہتا ہے۔اس پر فرعون کے غصہ کا پارہ بہت ہی چڑھ گیا اور موسیٰ ؑسے کہنے لگا کہ یا تو سیدھی طرح مجھے خدا قرار دو ورنہ میں تجھے قید کردوں گا۔اور پھر تجھے پتا لگے گا کہ تیری اس گستاخی کی کیا سزا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کی شان دیکھو کہ وہی جو موسٰی کو آہنی سلاخوں کے پیچھے قید کرنا چاہتاتھا خدا تعالیٰ نے اسے بحیرئہ قلزم کی طوفانی موجوں میں ایسا قید کیا کہ وہ اپنے تمام لائولشکر اور مددگاروں کے باوجود اس قید سے رہا نہ ہوسکا۔جب اُس نے قید کرنے کی دھمکی دی۔تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ کیا اگر میں کوئی ایسی دلیل لائوں جو میری بات کو بالکل واضح کردے تو کیا پھر بھی تم قید کرو گے ؟ فرعون نے اپنے دل میں سوچا کہ چلو اس وقت تو بحث سے جان چھوٹی آئندہ دیکھا جائے گا اور کہنے لگا کہ اگر تم سچے ہو تو ایسی