تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 374

صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو ساعت آنی تھی اور آپ کے ذریعہ جو تغیر رونما ہونا تھا اس کا وقت اب آگیا ہے اورا س کی علامت یہ ہے کہ چاند پھٹ گیا ہے۔یہ علامت اس لئے بتائی گئی کہ عربوں میں قمر سے مراد عرب کی حکومت ہوا کرتی تھی۔چنانچہ حضرت صفیہؓ جو ایک یہودی سردار کی بیٹی تھیں اور بعد میں رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں داخل ہوئیں۔انہوں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ان کی گو د میںچاند آگرا ہے۔وہ کہتی ہیں جب میں نے اپنے باپ کو یہ خواب سنائی تو اُس نے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور کہا کہ کیا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے(الاصابۃ، کتاب النساء، حرف الصاد، صفیۃ)۔اس لئے پتہ لگتا ہے کہ عرب کے لوگ قمر سے مراد عرب کی حکومت لیتے تھے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کشفی طور پر یہ نظارہ دکھا یا گیاکہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا ہے۔تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اب کفارِ عرب کی تباہی کا وقت آ پہنچا ہے چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐکے صحابہ پر ایک لمبے عرصے سے مظالم ڈھائے جا رہے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی کہ اب اسلام کی ترقی کا زمانہ آگیا ہے۔اور یہ نظارہ نہ صرف آپؐ کو دکھایا گیا بلکہ کفار کو بھی اس نظارہ میں شامل کرلیاگیا۔تاکہ وہ بھی اس بات کو سمجھ لیں کہ اب کفر کے مٹنے کے دن آگئے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب ’’سُرمہ چشم آریہ‘‘ میں اس معجزہ پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے رئویا وکشوف کے دائرہ کی اس وسعت کو تسلیم کیا ہے اور تحریر فرمایا ہے کہ ’’یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کی قوت قدسیہ کے اثر سے دیکھنے والوں کو کشفی آنکھیں عطا کی گئی ہوں۔اور جو انشقاق قرب قیامت میں پیش آنے والا ہے اُس کی صورت ان کی آنکھوں کے سامنے لائی گئی ہو۔کیونکہ یہ بات محقق ہے کہ مقربین کی کشفی قوتیں اپنی شدت حد ت کی وجہ سے دوسروں پر بھی اثر ڈال دیتی ہیں۔اس کے نمونے ارباب مکاشفات کے قصوں میں بہت پائے جاتے ہیں بعض اکابر نے اپنے وجود کو ایک وقت اورایک آن میں مختلف ملکوں اور مکانوں میں دکھلا دیا ہے۔باذن اللہ تعالیٰ‘‘ (سُرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۷۔۲۷۸) اسی طرح فرماتے ہیں کہ : ’’صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ ان کی کنہ کو سمجھنے میں بکلی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔بعض اوقات صاحبِ کشف صدہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بیشمار حجابوں