تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 371
آپ کو پاگل نہ کہتے تو کیا کہتے۔اسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کے سامنے یہ نظریہ پیش کیا کہ اب جہاد کی شکل بدل گئی ہے اب لٹریچر اور تبلیغ کے ذریعہ اسلام پھیلانے کا زمانہ ہے تو مسلمان حیران ہوئے کہ کیا اس طرح اسلام دنیا پر غالب آسکتا ہے۔اُن کے نزدیک تو ترقی کا صرف یہی ایک ذریعہ تھا کہ غیر مسلموں کو قتل کردیا جائے۔پس جب انہوں نےسنا کہ ایک شخص یہ کہہ رہا ہے کہ اسلام کی ترقی غیر مسلموں کو قتل کرنے سے نہیں بلکہ اپنی جانوں کو اسلام کی راہ میں قربان کرنے سے وابستہ ہے تو انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ مرزا صاحب پاگل ہیں جو ایسے خلاف عقل مسائل دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں یہی حربہ فرعون نے بھی استعمال کیا۔اور جب اس نے دیکھا کہ وہ دلائل کے میدان میں پورا نہیں اتر رہا تو اُس نے کہا یہ تو پاگل ہے جو ایسی احمقانہ باتیں کررہا ہے۔قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَيْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ (موسیٰ نے سمجھ لیا کہ وہ بات ٹلانہ چاہتاہے اور)کہا(رب العالمین )وہی ہے جو مشرق کا بھی رب ہے اور تَعْقِلُوْنَ۰۰۲۹قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مغرب کا بھی (رب ہے) اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (ان کا بھی رب ہے ) بشرطیکہ تم عقل سے کام لو۔مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ۰۰۳۰قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍۚ۰۰۳۱ (اس پر فرعون نے طیش میں آکر )کہااگر میرے سوا تو نے کوئی اور معبود بنایا تو میں تجھے قید کردوں گا۔اُس قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۳۲فَاَلْقٰى عَصَاهُ (یعنی موسیٰ )نے کہا۔کیا اُس صور ت میں بھی کہ میں کوئی (حقیقتِ حال کو ) کھول دینے والی چیز تیرے پاس فَاِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌۚۖ۰۰۳۳وَّ نَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيْضَآءُ لے آئو ں(یعنی معجزہ) اس پر اُس (یعنی فرعون )نے کہا۔اگر تو سچا ہے تو لے بھی آ۔پس اُس (یعنی موسیٰ) نے اپنا