تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 370

مسئلہ کو پیش کرنے میں حکمت کیاہے؟ وہ کہنے لگے۔آپ ہی فرمائیے۔انہوں نے کہا سنو!اصل بات یہ ہے کہ مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کتاب لکھی۔تیرہ سوسال میں بھلا کوئی مسلمان کابچہ تھا جس نے ایسی کتا ب لکھی ہو۔مرزا صاحب نے ا س میں ایسے ایسے علوم بھر دیئے کہ کسی مسلمان کی کوئی کتا ب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی وہ اسلام کے لئے ایک دیوار تھی جس نے اسے دوسرے مذاہب کے حملوں سے بچالیا۔لیکن مولوی ایسے احمق اوربے وقوف نکلے کہ بجائے اس کے کہ وہ آپ کا شکریہ اداکرتے اورزانوئے ادب تہ کرکے آپ سے کہتے کہ آئندہ ہم آپ کے بتائے ہوئے دلائل ہی استعمال کیا کریں گے انہوں نے اُلٹا آپ پر کفر کافتویٰ لگادیا اوراسلام کی اتنی عظیم الشان خدمت دیکھنے کے باوجود جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیرہ سوسال میں اَور کسی نے نہ کی آپ کے خلاف کفر کے فتوے دینے لگے اور اپنی علمیّت جتانے لگ گئے۔اورسمجھنے لگے کہ ہم بڑے آدمی ہیں۔اس پر مرزا صاحب کو غصہ آنا چاہیے تھا اورآیا۔چنانچہ انہوں نے مولویوں سے کہا۔اچھا تم بڑے عالم بنے پھر تے ہو اگر تمہیں اپنی علمیت پر ایسا ہی گھمنڈ ہے تودیکھ لو کہ حیات مسیح کاعقیدہ قرآن سے اتنا ثابت ہے اتنا ثابت ہےکہ اس کے خلاف حضرت مسیح کی وفات ثابت کرنا ناممکن نظر آتاہے۔لیکن میں قرآن سے ہی حضرت مسیح کی وفات ثابت کرکے دکھاتاہوں۔اگر تم میں ہمت ہے تو اس کاردّکرو۔چنانچہ انہوں نے مولویوںکوان کی بیوقوفی جتانے کے لئے وفات مسیح کامسئلہ پیش کردیا اورقرآن سے اس کے متعلق ثبوت دینے لگ گئے۔اب مولوی چاہے سارازور لگالیں۔چاہے ان کی زبانیں گھِس جائیں اورقلمیں ٹوٹ جائیں۔سارے ہندوستان کے مولو ی مل کربھی مرزا صاحب کے دلائل کامقابلہ نہیں کرسکتے۔مرزا صاحب نے انہیں ایساپکڑاہے کہ ان میں سر اٹھانے کی تاب نہیں رہی۔اب اس کا ایک ہی علاج ہے اوروہ یہ کہ سارے مولوی مل کر ایک وفد کی صورت میں حضرت مرزا صاحب کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ ہم سے آپ پر کفرکا فتویٰ لگانے میں بے ادبی ہوگئی ہے۔ہمیں معاف کیاجائے۔پھر دیکھ لیں مرزا صاحب قرآن سے ہی حیات مسیح ثابت کرکے دکھاتے ہیں یانہیں؟ اس سے انداز ہ لگایا جاسکتاہے کہ اس وقت حیات مسیح کاعقیدہ کتنا یقینی سمجھاجاتاتھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتبار اوراعتماد رکھتے ہوئے آ پ کو اسلام کا سب سے بڑاخادم سمجھتے ہوئے پھر بھی ان کا ذہن اس طرف نہیں جاتاتھاکہ حضرت مسیح فوت ہوگئے ہیںبلکہ وہ کہتے تھے کہ یہ محض مولویوں کو شرمندہ کرنے کیلئے کہتے ہیںورنہ حیاتِ مسیح کا مسئلہ تو ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔جب آپ پر اعتماد رکھنے اور آپ کواسلام کا سب سے بڑاخادم سمجھنے والوں کی یہ کیفیت تھی تو دوسرے لوگ جو آپ کو اسلام کا دشمن قرار دیتے تھے وہ اس مسئلہ کی وجہ سے اگر