تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 344

دن پانچوں نمازیں وقت پر پڑھو اورایک نماز کابھی ناغہ نہ کرو۔تومیں تمہیں دوروپے انعام دوں گا دوروپے اس زمانہ میں اس کے لئے بڑابھاری انعام تھا۔وہ کہنے لگا۔آج ضرور میں پانچوں نمازیں پڑھوں گا۔شاید عشاء کا وقت تھا جب اس نے نماز شروع کی صبح ہوئی توپھر بھی اس نے ہمت کرکے نماز پڑ ھ لی۔ظہر اورعصرمیں بھی کسی نہ کسی طرح شامل ہوگیا۔صرف مغرب کی نماز رہتی تھی۔ان دنوں چونکہ مہمان تھوڑے ہواکرتے تھے اس لئے ان کا کھاناہمارے گھر تیارہواکرتاتھا۔اورمغرب کے وقت ان کاکھاناگھرسے جایاکرتاتھا۔اتفاق ایساہواکہ اس دن مغرب کی نماز نسبتاً دیر سے ہوئی۔اورکھانالے جانےکا وقت ہوگیا۔جوعورت اند رسے کھانا لایاکرتی تھی اس نے پیرے کو آواز دی کہ پیرے کھانا تیار ہے۔مہمانوں کے لئے لے جائو۔مگرپیرامسجد میں تھا۔اوراس وقت نماز ہورہی تھی۔لیکن بلانے والی عورت کو اس کاعلم نہ تھا۔اس نے دوچار آوازیں دیں مگرپیراوہاں ہوتا تو جواب دیتا۔آخراس نے زورسے آواز دی کہ پیریاکھانالے جانہیں تومیں تیری شکایت کروں گی۔یہ آواز چونکہ اس نے زور سے دی تھی۔اس لئے پیرے نے بھی سن لی۔جس پر اس نے نماز میں ہی جواب دیاکہ ’’ ٹھہرجا!التحیات پڑھ لواںتے آنداں۔‘‘یعنی ٹھہرجائو۔ابھی تشہّد پڑھ کرآتاہوں۔گویا عین آخری تشہد میں و ہ بول پڑا اوراس طرح اس نے اپنے دوروپے کھودیئے۔تووہ بہت ہی موٹی عقل کا آدمی تھا۔اتنی موٹی عقل کاکہ وہ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے مہمانوں کو خوش کرنے کے لئے دال میں مٹی کاتیل ڈال کر کھالیا کرتاتھا اورجب لوگ کہتے کہ تم مٹی کا تیل کیوں ڈالتے ہو۔توکہتا۔اس میں کیاحرج ہے۔سرسوں کاتیل نہ ڈالاتو مٹی کا تیل ڈال لیا۔اس وقت قادیان میں نہ تا رگھر تھا۔اورنہ ریل آیاکرتی تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کبھی تاردینے کی ضرورت پیش آتی یاکوئی ریلوے پارسل منگوانا ہوتا توآپ ؑبٹالے کسی آدمی کو بھجوادیاکرتے تھے اور کبھی کبھی پیرے کو بھی اس غرض کے لئے بھیج دیتے تھے۔ان دنوں مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی جو سلسلہ احمدیہ کے اشد ترین مخالفوں میں سے تھے اسٹیشن پرجایاکرتے تھے اورجب کسی نوواردمسلمان کو اترتے دیکھتے تواسے پوچھتے کہ وہ کہاں جاناچاہتاہے اورجب کسی کے متعلق معلوم ہوتا کہ وہ قادیان جاناچاہتاہے تواسے ورغلانے کی کوشش کرتے اورکہتے کہ یہیں سے واپس چلے جائو۔قادیان میں جاکر تمہاراایمان خراب ہوجائے گا۔ایک دن انہیں اورکوئی شکار نہ ملاتو انہوں نے پیرے کو ہی پکڑ لیا۔وہ اس دن کوئی تاردینے یا کوئی بلٹی لینے کے لئے بٹالے گیاہواتھا۔مولوی محمد حسین صاحب اسے کہنے لگے۔پیرے تیراتوایمان خراب ہوگیاہے۔مرزا صاحب کافر اوردجال ہیں تواپنی عاقبت ان کے پیچھے لگ کر کیوں خراب کرتاہے۔پیراان کی باتیں سنتا رہا۔جب وہ اپنا جوش نکال چکے توانہوں نے اپنی باتوں کی پیرے سے بھی تصدیق کروانی چاہی اورانہوں