تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 343

کرنے کی قابلیت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے جس سے صاف پتہ لگتاہے کہ ان کا علم اپنانہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا عطا کیاہواہوتاہے جو ہرموقعہ پر ان کی تائید کرتا اورانہیںوقت پرایسی ایسی باتیں سمجھادیتاہے کہ حیرت آتی ہے۔قادیان میں ایک شخص ’’پیرا‘‘ہواکرتاتھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کا خادم تھا وہ اتنی موٹی عقل کاآدمی تھا کہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتاتھاکہ احمدیت کیاہے۔لیکن اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے ساتھ ایک ذاتی لگائو تھا۔کہیں اس کو گنٹھیا کی بیماری ہوگئی۔و ہ پہاڑی آدمی تھا اس کے رشتہ داروں کو بعض لوگوں نے کہا کہ یہاں ا س کاعلاج نہیں ہوسکے گا اسے کہیں میدانوں میں لے جائو۔چنانچہ وہ اسے گورداسپورلے آئے۔مگرچونکہ وہ سب غریب آدمی تھے اورایسے لوگوںکو روٹی بھی کھلانی پڑتی ہے اوردوائی بھی دینی پڑتی ہے اس لئے کوئی شخص علاج کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتاتھا۔آخر کسی نے ان کو بتایاکہ قادیان میں ایک مرزا صاحب ہیں جو بڑے خدا پرست ہیں۔وہ معالج اورحکیم بھی ہیں ان کے پاس لے جائو وہ اس کی خبر گیری بھی کریں گے اوردوابھی دیں گے۔چنانچہ اس کے رشتہ دار اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس لے آئے اوراسے وہاں چھوڑ کر کھسک گئے۔حضر ت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا علاج کیا اورآہستہ آہستہ اسے آرام آناشروع ہوگیا۔جب اس کے رشتہ داروں کو معلوم ہواکہ اب وہ اچھا ہوگیاہے اورکام کاج کرسکتاہے۔تودوسری سردیوں میں پھر اس کے رشتہ دار آئے اورانہوں نے کوشش کی کہ وہ ان کے ساتھ چل پڑے۔مگرمعلوم ہوتاہے اس کے قلب میں نیکی تھی۔جب انہوں نے اسے کہا کہ ہم تجھے لینے کے لئے آئے ہیں توکہنے لگا۔تم بے شک میرے رشتہ دارہو مگر تم مجھے چھوڑ کرچلے گئے تھے۔اس لئے اب توجس نے میراعلاج کیا اورجس کی وجہ سے میں اچھا ہوا۔میرارشتہ دار وہی ہے میں اسے چھوڑ کرنہیں جاسکتا۔وہ ڈیوڑھی پر پڑارہتاتھا اورجومہمان آتاتھا اس کی خدمت کرتاتھا۔اسی طرح گھرکامعمولی کام کاج بھی کردیاکرتاتھا۔اس کی عقل کایہ حال تھاکہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اسے بڑامجبور کیاکرتے تھے کہ وہ نماز پڑھے مگر وہ یہی جواب دیتاتھاکہ مجھے نماز نہیں آتی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو بھی بڑاجوش تھا کہ یہ حضرت مسیح موعودؑ کے دروازے پر بیٹھارہتاہے اورنمازیں نہیں پڑھتا لوگ اسے دیکھیںگے تو اعتراض کریں گے اس لئے آپ اسے بار بار نماز پڑھنے کی نصیحت کرتے تھے مگر وہ جواب دیتا مجھے نماز یاد ہی نہیں ہوتی۔آخر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے تنگ آکر اسے فرمایا کہ نماز نہیں آتی توسبحان اللہ سبحان اللہ ہی کہہ لیا کرو۔چنانچہ اس کے بعد وہ کبھی ساتویں آٹھویں دن نماز میں شامل ہوجاتاتھا۔اورسبحان اللہ سبحان اللہ کہتا رہتاتھا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک دن اس خیال سے کہ شاید انعام کے لالچ سے اسے نماز پڑھنے کی عادت ہوجائے۔اسے فرمایا۔پیرے اگرتم ایک