تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 342
تیری گردن کے آخری تسموںکوبھی کاٹ دے گی اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔غرض جہاں تک قربانی اورمحبت کاسوال ہے دنیا کے ہرنبی نے اپنی قوم کے لئے قربانیاں کیں۔اورہرنبی اپنی قوم کے کفر اورنفاق کو دیکھ دیکھ کر پریشان حال رہا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورپہلے انبیاء میں یہ فرق ہے کہ پہلے انبیاء کے سینہ میں تواپنی قوم کا کفردیکھ کرصرف تنگی محسوس ہوتی تھی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوان کاکفردیکھ کر ایساغم ہوتاتھا کہ قریب تھا کہ آپ اس غم کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلا ک کرلیتے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تویہ کہاکہ رَبِّ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم ملاکہ جااوردنیا کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا توآپؐ نے فوراً اپنی بیوی کو خبر دی اورپھر بعد میں اپنی ساری قوم کو خبر دی اوریہ نہیں کہا کہ قوم میری تکذیب کرے گی بلکہ آپؐ نے دلیری سے خدا تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہااور کسی ڈراورخوف کا اظہار نہیں کیا۔یہ امربتاتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ بہت بلند تھا۔اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک اوربات کی اورفرمایا لَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ اے میرے رب ! میری تو زبان ہی نہیں چلتی۔مگرخدا تعالیٰ کی شان دیکھو کہ وہی موسیٰ ؑجنہیں یہ خوف تھاکہ میں فرعون کے دربا رمیں کس طرح بات کرسکوں گا اورجنہوں نے حضرت ہارو ن علیہ السلام کی یہ خوبی بیان کی تھی کہ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّی لِسَانًا (القصص : ۳۵) وہ بات کرنے میں مجھ سے بہت زیادہ فصیح ہیں جب فرعون کے سامنے جاتے ہیں توحضرت ہارون ؑ کو ایک فقرہ بھی بولنے نہیں دیتے۔اورخود ہی اس کے تمام سوالات کے جواب دیتے چلے جاتے ہیں۔اَفْصَحُ مِنِّی لِسَانًا کے الفاظ بتارہے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یقیناً فصیح البیان تھے اوران کی زبان میں جیساکہ پرانے مفسرین خیال کرتے ہیں کوئی خلقی نقص نہیں تھا (تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت ربّ اشرح لی صدری)صرف اتنی بات ضرور ہے کہ وہ اپنے آپ کو فصاحت بیان میں حضرت ہارون علیہ السلام سے کم درجہ پر سمجھتے تھے۔مگرجب اللہ تعالیٰ نے رسالت کا کام آپ کے سپر د کیا اورفرعون کے دربار میں آپ تشریف لے گئے۔تووہاںآ پ کی فصاحت اورآ پ کے دلائل کی مضبوطی کی ایسی دھاک بیٹھی کہ فرعون جھنجلااٹھا اوراس نے سمجھا کہ اب مقابلہ کے لئے کوئی اجتماعی پروگرام مرتب کرنا چاہیے ورنہ یہ لوگوں کو برگشتہ کردے گا۔ہم نے اپنی جماعت میں بھی دیکھا ہے کہ جب کو ئی شخص اخلاص کے ساتھ احمدی ہوتاہے توباوجود اس کے کہ وہ ان پڑھ اورجاہل ہوتاہے احمدی ہوتے ہی اس کی زبان اس طرح کھل جاتی ہے کہ بڑے بڑے مولوی اس کے ساتھ بات کرنے سے گھبرانے اورکترانے لگ جاتے ہیں۔اس کی عقل پہلے سے تیز ہوجاتی ہے اوراس کی بحث