تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 341

لے کر دوسرے سرے تک اسے کاٹ دیاہے۔جب لوگوں کے ایمان نہ لانے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر افسوس تھا توان کاکفرکی حالت میں مرجانا آپؐ پر کس قد رگراں گذرتاہوگا؟ جوشخص صرف اس بات سے ہی صدمہ محسوس کرتاہو کہ ایک شخص خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لایا اس کے دل پر اس وقت کیا گذرتی ہوگی جب اسے یہ معلوم ہوتا ہوگا کہ اب کفر پر اس کاخاتمہ بھی ہوگیاہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ دنیامیں ہمیشہ بڑی چیزوں پر چھوٹی چیزوں کو قربان کیا جاتا ہے مگراللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کمزورانسانیت پراپنے پیداکئے ہوئے قیمتی سے قیمتی جوہروں کو قربان کیا۔آدم ؑاپنے زمانہ کا سب سے قیمتی جوہر تھا۔مگراللہ تعالیٰ نے ان کمزورلوگوں کے لئے جنہوں نے شیطان کا ساتھ دیا آدم ؑ کی سی قیمتی جان کو قربان کرادیا۔حضرت نوح علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے قیمتی وجود تھے۔مگراللہ تعالیٰ نے ان ازلی شقیوں اوران بدبخت وجودوں کے لئے جو ہدایت سے محرومی اختیار کرچکے تھے حضرت نوح علیہ السلام کی جان کو قربان کرادیا۔حضر ت ابراہیم علیہ السلام اپنے زمانہ کے سب سے قیمتی وجود تھے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جان کو کمزور اورناقص انسانوں کے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کرب وبلامیں مبتلاکیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے قیمتی سے قیمتی وجود تھے مگر وہ بنی اسرائیل جو خداکے لئے صرف اس قربانی کے مالک تھے کہ انہوںنے کہہ دیا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(المائدۃ :۲۵) اے موسیٰ! تواورتیرارب دونوں جائو اور ان سے جنگ کرو۔ہم توبہرحال اسی جگہ بیٹھے رہیں گے۔اس بزدل اورنشانات سے آنکھیں بندکرلینے والی قوم کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سی قیمتی جان کو قربان کرادیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے قیمتی ترین وجودوں میں سے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جن کے متعلق حضرت مسیح علیہ السلام خود کہتے ہیں کہ وہ سانپ اورسانپوں کے بچے ہیں (متی باب ۲۳آیت ۳۳)ان کی زندگی کو بھینٹ چڑھادیا۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پاک اوراعلیٰ وجود اس دنیا میں کون آیا کہ جس کے متعلق ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایاکہ لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ (فوائدالمجموعہ مصنفہ علّامہ شوکانی کتاب الفضائل باب فضائل النبی ؐ) اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر تجھے پیدانہ کرنا ہوتاتومیں زمین وآسمان کو بھی پیدانہ کرتا مگر وہ وجود جس کی خاطر بنی نوع انسان پیداکئے گئے۔ابوجہل ،عتبہ اورشیبہ کی ہدایت اوربھلائی کے لئے اس کو ایک ایسی صلیب پر لٹکادیا جولوگوں کو تو نظرنہیں آئی مگرخدا تعالیٰ جس کی نظر میں ہر عیب بھی ظاہر ہے وہ اس صلیب کے متعلق فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ اے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )شایدکہ غم کی چھری تجھ کو ذبح کرتے کرتے