تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 339
بہرحال کوئی بھی صورت ہو انسان کے لئے دوچیزوں کی صفائی نہایت ضروری ہے ،ان میں سے ایک فکر ہے اور دوسری جذبات لطیفہ ہیں۔افکارکی صفائی جسے عربی میں تنویرکہتے ہیں دماغ کی صفائی سے حاصل ہوتی ہے۔تنویر اس بات کو کہتے ہیں کہ انسان کے اندرایسانورپیداہوجائے جس کی وجہ سے ہمیشہ صحیح خیالات پیدا ہوتے رہیں۔جس طرح ایک تندرستی تویہ ہوتی ہے کہ انسان کہے میں اس وقت تندرست ہوں۔اورایک تندرستی یہ ہوتی ہے کہ انسان آئندہ بھی تندرست رہے۔اسی طرح تنویر فکر کی وہ درستی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ جو خیالات بھی پیداہوں درست ہی ہوں۔اورتنویر کے جومعنے دماغ کی نسبت سے ہیں وہی تقویٰ کے معنے دل کی نسبت سے ہیں۔یعنی جس طرح فعلاً صحیح خیال کاپیداہونا تنویر نہیں بلکہ ایسے ملکہ کاپیداہوجاناکہ ہمیشہ صحیح خیالات ہی پیدا ہوتے رہیں تنویر ہے۔اسی طرح تقویٰ صرف ایک یاچند نیکیوں کانام نہیں بلکہ انسان کاایسے مقام پر کھڑاہوجاناتقویٰ کہلاتاہے کہ اس کے اند رجوجذبات بھی پیداہوں وہ ہمیشہ نیک اورپاک ہوں۔اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میراشیطان مسلمان ہوگیاہے(مسلم کتاب صفات المنافقین باب تحریش الشیطان)۔یعنی میرے دل میں جوخیال بھی پیدا ہوتاہے نیک ہی ہوتاہے برانہیں ہوتا۔غرض افکار کے لئے تنویر اورجذبات کے لئے تقویٰ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور انسان بدی کے حملہ سے اسی وقت محفوظ ہوتاہے جب کسی انسان کو تنویر افکار بھی حاصل ہواورتقویٰ قلب بھی حاصل ہو۔پس اَلَا یَتَّقُوْنَ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام قومِ فرعون کی طرف تقوی اللہ کا پیغام لے کر گئے تھے۔اور آپ کی بعثت کا بڑا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنی دعائوں اور تبلیغ اور نصائح کے نتیجہ میں ان کی ایسی اصلاح کردیں کہ نہ صرف ان کے افکار اور ان کے جذبات میں درستی پید اہوجائے بلکہ ان کے اندر ایسا ملکہ پید ا ہوجائے کہ آئندہ جب بھی ان کے دماغ میں کوئی خیا ل پید ا ہووہ صحیح ہو۔اور جب بھی ان کے دلوں میں کوئی جذبات پید ا ہوں وہ پاکیزہ ہوں۔یہی چیز ہے جس پر تمام انبیاء زور دیتے چلے آئے ہیں۔اور اسلام نے بھی اس کی طرف باربار توجہ دلائی ہے۔کیونکہ روحانی علوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل پر نازل ہوتے ہیں۔اگر کسی شخص کا دل پاک نہ ہو تو وہ الٰہی فیضان سے محروم رہتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا توانہوںنے عرض کیا کہ رَبِّ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ۔اے میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ میری تکذیب نہ کریں۔اس کے یہ معنے نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس سنت قدیم کا علم نہیں تھا کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور مبعوث ہوتاہے تو دنیا ا س کا انکار کیا کرتی ہے بلکہ ان کا خوف اس وجہ سے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ تمام قومیں اپنے اپنے زمانہ میں انبیاء کا