تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 340

انکار کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں۔پس ان کے دل میں ڈر پیدا ہوا کہ اگر ان لوگوں نے بھی انکار کیا تو یہ بھی خدائی گرفت میں آجائیں گے۔اور یہ چیز ایسی ہے جو انبیا ء کے لئے سخت دکھ کا موجب ہوتی ہے پس انہوں نے فرعون کی طاقت اورا س کے مظالم پر نظر دوڑاتے ہوئے اس امکانی خطرہ کا اظہار کیا کہ وہ اپنے تکبر اور سرکشی کی وجہ سے تکذیب پر کمر بستہ ہو جائےگا اوراپنے اس تلخ انجام کو اپنے قریب کرلے گا جو ہمیشہ سے منکرین انبیاء کا ہوتا چلاآیا ہے۔چنانچہ آیت کا اگلا ٹکڑا ان معنوں کی تائید کرتاہے۔وہ فرماتے ہیں وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ۔اے میرے رب! میرا سینہ تنگی محسوس کرتاہے۔یعنی ان کے ہدایت کو ردّکردینے کے خیال سے میری یہ کیفیت ہے کہ میراسینہ تنگ ہورہاہے اورمیرادم گھٹ رہاہے۔ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس محبت کی طرف اشار ہ فرمایا ہے جوانہیں اپنی قوم سے تھی اوربتایاہے کہ ان کاسینہ اپنی قوم کے کفراورفسق کاتصور کرکے تنگی محسوس کرتاتھا اوروہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی قوم الٰہی پیغام کا انکار کرکے اس کےعذاب کی مستحق ہو۔مگر اس بارہ میں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوحضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایک بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تویہ کہاہے کہ رَبِّ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ اے میرے رب !میں ڈرتاہوں کہ وہ کہیں میری تکذیب نہ کردیں۔مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ(الانعام :۳۴) یعنی ہم جانتے ہیں کہ جوکچھ یہ مخالف لوگ کہتے ہیں۔اس سے تجھے بڑاسخت غم پہنچتاہے کیونکہ یہ تجھ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کاانکار کرتے ہیں۔اس آیت میں بتایاگیاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کویہ فکر نہیں تھا کہ قوم ان کی تکذیب کررہی ہے بلکہ آپ اگر غمزدہ تھے تواس لئے کہ قوم خدا تعالیٰ کی آیات کاانکار کررہی ہے۔گویا آپ کاغم اپنی ذات کے لئے نہیں تھا۔بلکہ آپ کاغم محض اس وجہ سے تھا کہ قوم خدا تعالیٰ کو ردّکررہی ہے اورہرشخص سمجھ سکتاہے کہ ان دونوں نظریوں میں کتنا بڑافرق ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تویہ ڈر تھاکہ قوم میری تکذیب کرے گی اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا غم تھا کہ قوم خدا کاانکار کررہی ہے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تواپنی قوم سے صرف اتنی محبت تھی کہ اپنی قوم کے کفر کودیکھ کر ان کاسینہ تنگی محسوس کرتاتھا مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی قوم کے کفرکا اتنا درد تھاکہ صدمہ کے مارے آپ ؐکی جان نکلی جارہی تھی۔جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ (الشعراء:۴)یعنی ان لوگوںکے ایمان نہ لانے اورکافررہنے کا ہمارے رسول کو اس قدر صدمہ ہے کہ گویا اس کی گردن پر تلوار رکھ کرکسی نے ایک سرے سے